حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 251
236 کالجوں بعد پہلا کیمپ تھا۔دو بٹالین تھیں یعنی آٹھ کمپنیاں۔تمام پنجاب کے سے اساتذہ اور طلباء شامل تھے۔کیمپ کے حالات تسلی بخش نہیں تھے۔اساتذہ اور طلباء کو فوجی رینگ ملے ہوئے تھے اور فوجی قانون کے تحت آتے تھے۔ایڈ جوٹنٹ ایک فوجی افسر تھا جو ان کو بسا اوقات فحش گالیاں انگریزی زبان میں دیا کرتا تھا۔اگر اراد تا نہیں تو عادتاً ضرور ایسا کرتا تھا۔کیمپ میں کافی کھچاؤ ہر وقت رہتا تھا۔کیمپ قریب الاختام تھا۔ایڈجوٹنٹ جنرل جو ان دنوں جنرل رضا تھے معائنہ کرنے کے بعد تشریف لے جا چکے تھے۔کمانڈر انچیف جو ان دنوں انگریز تھے آنے والے تھے۔اگلے روز نمائشی لڑائی وغیرہ کے بعد تقسیم انعامات ہوئی تھی جو کمانڈر انچیف صاحب نے کرنی تھی۔نہ جانے کیسی گالی اس افسر نے دی کہ طلباء بے قابو ہو گئے اور فیصلہ کر لیا کہ سٹرائیک کریں گے اور کمانڈر انچیف صاحب کی آمد اور تقسیم انعامات کے موقع پر اپنے اپنے خیموں میں بیٹھے رہیں گے۔نہ صفائی کریں گے نہ وردیاں پہنیں گے۔عاجز اپنی پلٹن کا کمانڈر تھا ہم نے حضور کی خدمت میں اس صورت حال کی اطلاع دینے کے لئے ایک خاص آدمی بھجوایا لیکن وہ پیغام رساں کیمپ سے باہر جاتے وقت گرفتار ہو گیا اور کوارٹر گارڈ میں بھیج دیا گیا۔ہمیں اس کا کوئی علم نہ تھا اور ہم حضور کی طرف سے ارشاد کے منتظر رہے۔جب رات ہو گئی تو ہم نے دیگر کالجوں کے اساتذہ سے رابطہ پیدا کیا خصوصاً راجہ ایس ڈی احمد صاحب (پرنسپل وٹرنری کالج اور انیمل (Animal) ہسبنڈری کے ڈائریکٹر رہے) برادرم رفیق عنایت صاحب جو بعد میں سی ایس پی کے سینئر افسر بھی رہے اور دیگر دوستوں سے ملے اور انہیں بتایا کہ سٹرائیک میں ہم شامل نہیں ہوں گے اور اگر سٹرائیک ختم نہ ہوئی تو ہماری پلیٹن بہر حال ڈیوٹی پر جائے گی کیونکہ سٹرائیک کو ہم ناجائز سمجھتے ہیں اور ان کی خدمت میں