حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 8 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 8

8 مسیح موعود علیہ السلام کے تیسرے خلیفہ راشد منتخب ہوئے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو سترہ سال تک منصب خلافت احمدیہ کی گراں بار اور جلیل القدر ذمہ داریاں نبھانے کی سعادت نصیب فرمائی۔آپ نے اعلاء کلمہ اللہ کے کئی توسیعی منصوبے جاری فرمائے۔آپ کے سارے منصوبوں کا محور اور مرکز خدمت قرآن اور اشاعت قرآن تھا۔آپ محبت کا سفیر بن کر ملک ملک اور قوم قوم کو محبت اور پیار کا سبق دیتے رہے۔آپ کو اپنی جماعت سے بہت ہی پیار تھا جس کا اظہار بعض اوقات ان الفاظ میں بھی کیا کرتے تھے کہ جماعت اور خلیفہ وقت ایک ہی وجود کے دو نام ہیں ۲۴ آپ کے پیار کا دامن اپنوں سے لے کر غیروں اور دشمنوں تک پھیلا ہوا تھا۔آپ معاندین کے دکھوں کے جواب میں مسکرا دیا کرتے تھے اور اپنی جماعت کو نصیحت کے رنگ میں فرماتے تھے "دنیا تیوریاں چڑھا کے اور سرخ آنکھیں کر کے تمہاری طرف دیکھ رہی ہے تم مسکراتے چہروں سے دنیا کو دیکھو" س۔Jee ہمیشہ یاد رکھو کہ ایک احمدی کسی سے دشمنی نہیں کرتا اور نہ کر سکتا ہے کیونکہ اس کے خدا نے اسے پیار کرنے کے لئے اور خدمت کرنے کے لئے پیدا کیا ہے " ہی آپ نے ان قوموں کو بھی پیار دیا اور ان کی بھلائی اور آسودگی کے سامان پیدا کئے جو ہمیشہ پیار سے محروم چلی آ رہی تھیں اور نظر انداز کی گئی تھیں۔آپ مجسم دعا تھے۔آپ کی زندگی میں لگاتار کئی راتیں ایسی بھی آئیں جب آپ ایک لمحہ کے لئے بھی نہ سو سکے اور ساری ساری رات دعائیں کرتے رہے۔آپ نے کسی کے خلاف بد دعا کرنے سے منع کیا ہوا تھا۔آپ فرماتے تھے ہم کسی کے لئے بددعا نہیں کرتے یہ خدا کا ک ہے کسی کو سزا دے یا کسی کو چھوڑ دے۔وہ مالک ہے؟ آپ نے اپنوں بیگانوں کے دکھوں کو اپنا دکھ بنایا۔دکھوں پر دکھ اٹھائے لیکن زبان پر کبھی شکوہ نہ آیا۔آپ کا دل خدا کی حمد سے بھرا رہتا تھا اور چہرے سے خدا کا نور ٹپکتا تھا۔آپ بہت نورانی چہرے والے اور ہمیشہ مسکرانے والے تھے۔آپ کی محبت بھری یاد دلوں سے کبھی جدا نہیں ہو سکتی۔جیسا کہ آگے بیان کیا جائے گا آپ آیت اللہ تھے