حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 217 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 217

202 نے حصہ لیا۔انعامات حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب سابق وزیر خارجہ نے تقسیم فرمائے۔باسکٹ بال کی گیم ربوہ میں فروغ پانا شروع ہو گئی اور اس طرح ہر سال ربوہ میں آل پاکستان باسکٹ بال ٹورنامنٹ ہونے لگے جن میں ہر سال ٹیموں کی شمولیت میں اضافہ ملک کے منتخب کھلاڑیوں کی شمولیت میں اضافہ ہوتا رہا۔چوتھے ٹورنامنٹ پر ایک ساوینیر بھی شائع ہوا اور پاکستان کے مختلف اخبارات جیسے پاکستان ٹائمز ، سول اینڈ ملٹری گزٹ نوائے وقت ، امروز ، الفضل وغیرہ میں ٹورنامنٹ کی نمایاں خبریں شائع ہوئیں۔۱۹۶۱ء میں کالج کے چار منتخب کھلاڑیوں نے پنجاب کی طرف سے قومی مقابلوں میں حصہ لیا اور وائی ایم سی اے کی مشہور بھارتی ٹیم نے کراچی ، لاہور اور راولپنڈی کے علاوہ ربوہ میں بھی میچ کھیلا۔ان غیر معمولی کامیابیوں کے باعث پانچویں سالانہ ٹورنامنٹ پر امیچیور باسکٹ بال ایسوسی ایشن کی انتظامیہ کمیٹی کی درخواست پر آپ نے ایسوسی ایشن کے صدر کا عہدہ قبول فرما لیا حالانکہ اس سے قبل آپ کئی مرتبہ معذوری کا اظہار فرما چکے تھے۔چنانچہ منصب خلافت پر فائز ہونے تک (نومبر ۱۹۶۵ء تک) آپ بلا مقابلہ ایسوسی ایشن کے صدر منتخب ہوتے رہے۔ساتویں ٹورنامنٹ پر جس کا انعقاد آپ کے زمانہ پرنسپل شپ کے آخری سال ۱۹۶۵ء میں ہوا ۳۶ ٹیموں نے شرکت کی۔گورنر مغربی پاکستان ملک امیر محمد خان صاحب اور دیگر عمائدین جیسے خواجہ عبدالحمید ڈائریکٹر تعلیمات راولپنڈی ریجن ، ونگ کمانڈر ایچ اے صوفی سیکرٹری سپورٹس کنٹرول بورڈ مغربی پاکستان ، پروفیسر خواجہ محمد اسلم پرنسپل اسلامیہ کالج لاہور ، سید پناہ علی شاہ انسپکٹر آف سکولز لاہور ڈویژن ، خان محمد عادل خان ڈائریکٹر آف سپورٹس پشاور یونیورسٹی وغیرہ نے پیغامات بھجوائے۔اس ٹورنامنٹ کی تصاویر مع پیغام و تصویر گورنر مغربی پاکستان دو مرتبہ ٹیلیویژن پر دکھائی گئیں اور ریڈیو پر مقامی اور قومی خبروں میں اعلان نشر کیا گیا۔خلافت کے منصب پر فائز ہونے کے بعد آپ کی اجازت سے یہ ٹورنامنٹ ”ناصر باسکٹ بال ٹورنامنٹ" کے نام سے جاری رہے۔