حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 216
201 منٹن ایسوسی ایشن کے کئی سال صدر رہے مغربی پاکستان کے بیڈ منٹن کے مقابلے کالج ہال میں ہوا کرتے۔پھر آپ۔۔۔۔باسکٹ بال کی سنٹرل زون کے صدر بنے۔دیگر کھیلوں کو بھی آپ کی سرپرستی حاصل رہی۔فٹ بال کرکٹ ، ٹینس، ٹیبل ٹینس تو آپ خود نہایت عمدہ کھیلتے تھے اور اساتذہ اور طلباء کے میچوں میں خصوصاً ہوسٹل ٹیبل ٹینس کے میچوں میں حصہ لیتے رہے۔روئنگ اور باسکٹ بال کو آپ نے بام عروج تک پہنچا دیا۔ہائیکنگ میں آپ بے حد دلچسپی لیتے رہے پنجاب ماؤنٹیرنگ کلب اور یونیورسٹی کی ماؤنٹیرنگ کلب جس کے صدر مرحوم ڈاکٹر بشیر وائس چانسلر تھے۔پارٹیشن کے بعد دونوں کے دستور بنانے میں آپ کے خاص مشورے شامل تھے اور عملاً آپ ان کے فاؤنڈر ممبر ہیں لیکن دونوں کلبوں سے کوئی براہ راست رابطہ قائم نہ رہ سکا البتہ آپ ہائیکنگ اور ماؤنیٹرنگ اور یوتھ ہاسٹلنگ کی ہر آن حوصلہ افزائی فرماتے رہے۔مرحوم چوہدری لطیف احمد جو پاکستان کے ممتاز ہا ئیکر تھے آپ کے بے حد معتقد تھے۔۷۵ ربوہ میں کالج منتقل کرنے کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کے زیر انتظام کالج کی کچی گراؤنڈ میں ۱۹۵۶ء میں باسکٹ بال کا آغاز ہوا۔پروفیسر نصیر احمد خان اس کے سرپرست مقرر ہوئے۔آپ کی راہنمائی اور نصیر احمد خان صاحب کی کوشش سے جب ۱۹۵۸ میں باسکٹ بال کا کورٹ پختہ ہو گیا تو اس پر آل پاکستان باسکٹ بال ٹورنامنٹ کا آغاز کروایا گیا۔پہلے آل پاکستان باسکٹ بال ٹورنامنٹ میں جو ٹیمیں شامل ہو ئیں وہ یہ ہیں۔پولیس لاہور برادرز کلب لاہور وائی ایم سی اے لاہور، بمبئی سپورٹس کلب کراچی، نارتھ ویسٹرن ریلوے لاہور ، فرینڈز کلب سرگودھا لائل پور کلب ٹی آئی کلب، زراعتی کالج لائل پور گورنمنٹ کالج لائل پور اور تعلیم الاسلام کالج ربوہ۔اس ٹورنامنٹ میں پاکستان بھر کے چھ اور پنجاب کے آٹھ منتخب اور مشہور کھلاڑیوں