حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 218 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 218

203 ڈاکٹر پروفیسر نصیر احمد خان لکھتے ہیں:۔”ربوہ میں تفریحی دلچسپی کے سامان اب بھی کم ہیں شروع میں بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر تھے۔۔۔۔کھیل کے میدان بہت کم میسر تھے اور سرسبز گھاس والے میدان تو ناپید تھے۔باسکٹ بال کے کھیل میں اپنی ذاتی دلچسپی کے علاوہ کالج میں اس کے اجراء کا ایک بڑا جواز میں نے یہ بھی پیش کیا تھا کہ اس میں گھاس کے میدان کی ضرورت نہیں پڑتی۔یہ عذر آپ نے معقول گردانا اور ۱۹۵۵ء ۱۹۵۶ء سے کچی گراؤنڈ میں کھیل کی ابتداء ہوئی جو آپ کی سرپرستی میں تیزی سے پروان چڑھا۔آل پاکستان باسکٹ بال ٹورنامنٹ شروع کیا گیا جس میں پاکستان کی سبھی نامور ٹیمیں شوق سے شامل ہونے لگیں اور پھر یہ سلسلہ ایسا چلا اور پاکستانی کھلاڑیوں اور آپ کے درمیان محبت اور وفا کا ایک ایسا رشتہ قائم ہوا جو آپ کی زندگی کے آخری سانسوں تک استوار رہا۔وفاداری کا بشرط استواری کا عمل ان کھلاڑیوں کی طرف سے بھی ہوا جن کا عقیدہ کے لحاظ سے آنحترم سے کوئی تعلق نہ تھا۔اس کا نمایاں اظہار آپ کی زندگی میں منعقد ہونے والے آخری آل پاکستان ناصر باسکٹ بال ٹورنامنٹ کے موقع پر اس قرارداد غم سے ہوا جو جناب شیخ محمد امین آف لاہور نے ٹورنامنٹ کے اختتامی اجلاس میں حضور کی حرم محترمہ حضرت سیدہ منصورہ بیگم کی وفات حسرت آیات کے متعلق سبہ کھلاڑیوں کی ترجمانی کرتے ہوئے پیش کی۔تعلیم الاسلام کالج ربوہ کے ایک سابق طالب علم جو کھیلیوں سے بھی شغف رکھتے تھے یعنی قریشی سراج الحق صاحب کھیلیوں سے آپ کی دلچسپی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔" کالج میں آپ طلباء کی جسمانی تربیت کی طرف خصوصی توجہ فرماتے تھے۔کم و بیش تمام کھیل باقاعدہ کھیلے جاتے تھے لیکن حضور کی زیادہ توجہ پہلے کشتی رانی کی طرف تھی اور بعد میں آپ کا دست شفقت