حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 200 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 200

185 نام بتائے سب کو رہا کر دیا گیا۔ان واقعات سے آپ کے اخلاق کریمانہ کا اندازہ ہو سکتا ہے جو ابتلاء کے ایام میں آپ سے ظاہر ہوئے اور جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔" کالج کی لاہور سے ربوہ منتقلی کے پس منظر میں ایک ایمان افروز واقعہ پروفیسر صوفی بشارت الرحمان صاحب لکھتے ہیں:۔ہمارے کالج کے زمانہ لاہور کے آخری ایام کا واقعہ ہے کہ صوبہ کے گورنر صاحب نے اسلامیہ کالج لاہور کی ایک تقریب میں تقریر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ سابق ڈی اے وی کالج کی عمارت ٹی آئی کالج سے واپس لے کر اسلامیہ کالج لاہور کو دے دی جائے گی کیونکہ اسلامیہ کالج کی ضرورت بہت ہی اہم ہے۔ٹی آئی کالج کے لئے کسی اور جگہ کا انتظام کیا جائے گا۔خاکسار نے جب یہ خبر سنی تو خاکسار پر سخت گھبراہٹ وارد ہوئی کہ اب کیا ہو گا؟ ہم کہاں جائیں۔سائیکل لیا اور فورا جناب پرنسپل صاحب کو یہ خبر سنانے مغرب سے ذرا قبل رتن باغ پہنچا اور حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کو اندر سے بلا کر نہایت ہی گھبراہٹ کے عالم میں بھرائی ہوئی آواز میں یہ اندوہناک خبر سنائی۔اس پر حضرت میاں صاحب یعنی جناب پرنسپل (حضور رحمہ اللہ تعالیٰ) مسکرائے۔فرمانے لگے۔صوفی صاحب! کا پرنسپل میں ہوں یا آپ ہیں؟ اگر گھبرانے کی بات ہے تو گھبرانا تو مجھے چاہئے کیونکہ کالج کے انتظامات کا میں ذمہ دار ہوں نہ کہ آپ۔آپ اس طرح کیوں گھبرا رہے ہیں۔پھر فرمایا اچھا یہ تو بتائیں کہ آپ کو یقین ہے کہ ہمارے کالج کا لاہور میں ہی رہنا جماعت احمدیہ کے مفاد میں ہے شائد یہ امر ہمارے کالج کے ربوہ جانے کا سامان ہی ہو اور شاید اللہ تعالیٰ کے علم میں جماعت کا مفاد اسی میں ہو کہ ہمارا کالج اب ربوہ چلا