حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 199
184 چوہدری محمد انور حسین صاحب امیر ضلع شیخوپورہ بیان کرتے ہیں:۔یہ ہے تقدیر خاصان خدا کی ہر زمانے میں کہ خوش ہو کر خدا ان کو گرفتار بلا کر دے ۱۹۵۳ء کے زمانہ کی بات ہے۔حضور رتن باغ لاہور میں قیام فرما تھے۔تلاشیاں عام ہو رہی تھیں تاکہ چلے جانے والے غیر مسلمانوں کا رہا سہا مال اکٹھا کیا جائے۔اسی تلاشی کے دوران حضرت اقدس کے قبضہ سے ایک زیبائشی خنجر برآمد ہوا جو حضرت نواب محمد علی خان صاحب کی طرف سے آپ کو پیش کیا گیا تھا اور اس پر سونے کے نقش و نگار تھے حضور کا چالان ہوا اور آپ لاہور جیل بھیج دیئے گئے۔سازش کا اصل ہدف حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ہی کی ذات مستودہ صفات تھی۔جو اپنی غیر معمولی صلاحیتوں اور عظیم الشان خدمات سلسلہ کے باعث جماعت میں ایک نمایاں اور قد آور مقام حاصل کر چکے تھے۔یہ خوف ان کو اندر ہی اندر کھائے جا رہا تھا کہ کہیں انتخاب کے وقت صلحائے جماعت کی نظر انتخاب ان پر نہ پڑ جائے۔وہ بزعم خود قبل از وقت ہی اس امکانی خطرے کو راستے سے ہٹانا چاہتے تھے۔خاکسار دوسرے تیسرے دن ملاقات کے لئے حاضر ہوتا تھا۔وہاں ہمارے ایک عزیز جیل میں تھے اس لئے جیل میں ملاقات کی آسانی رہتی تھی۔ایک دن اس عزیز نے بتایا کہ مرزا صاحب جیل میں ہیں اور وزیر چوہدری علی اکبر صاحب معائنہ کرنے آئیں گے تو ان کو سفارش کروں گا اور اس طرح مرزا صاحب کو رہائی مل جائے گی۔جیل میں بہت سارے قیدی حضور سے پوچھتے رہتے تھے۔جب وزیر موصوف چوہدری علی اکبر صاحب آئے تو حضور سے پوچھا کہ جن جن قیدیوں کی آپ سفارش کریں ان کو رہا کر دیا جائے حضور نے جن کے