حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 201
186 جائے۔مت گھبرائیں۔اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ وہی معاملہ کرے گا جو ہمارے حق میں مفید ہو گا۔خاکسار بالکل ٹھنڈا ہو گیا اور شرمندگی کے ه عالم میں رتن باغ سے لوٹا۔" ۵۷ ربوہ میں کالج کی مستقل عمارت کا منصوبہ اور صاحبزادہ صاحب کی گراں قدر خدمات مورخ احمدیت مولوی دوست محمد صاحب شاہد لکھتے ہیں۔" حضرت مصلح موعود " کا منشاء مبارک تھا کہ تعلیم الاسلام کالج کو دوسرے جماعتی اداروں کی طرح جلد سے جلد جماعت کے نئے مرکز ربوہ میں منتقل کیا جائے تاکہ اس کے نو نہال خالص دینی فضا میں تربیت پا سکیں۔اگرچہ اس وقت کی اس نقل مکانی کی افادیت کالج کے بعض پروفیسر صاحبان کے سمجھ میں نہ آ سکی اور ان کا اصرار تھا کہ کالج کو لاہو ر ہی میں رہنے دیا جائے مگر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی المصلح الموعود نے ارشاد فرمایا کہ قادیان سے ہجرت کے بعد تمام کاروبار اور ادارہ جات دوبارہ جاری کرنے کا حق سب سے پہلے ربوہ کا ہے۔اگر احباب جماعت یا دیگر اصحاب کوئی کالج یا سکول چلانا چاہیں تو اس شہر کی جماعت کو خود کوشش کرنی چاہئے۔۵۸ ابھی کالج لاہور میں تھا ادھر ربوہ میں کالج کی نئی بلڈنگ پر تعمیر کا کام شروع کر دیا گیا ۱۹۵۳ء کی بات ہے۔جماعت کے خلاف AGITATION اور مارشل لاء کے نفاذ سے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل کالج ان دنوں جیل خانہ میں تھے کالج کی تعمیر کی نگرانی سید سرور حسین شاہ صاحب کے سپرد ہوئی۔انہوں نے جیل خانہ میں پرنسپل صاحب سے ملاقات کر کے ہدایات حاصل کیں۔کچھ دنوں کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پر نسپل تعلیم الاسلام کالج باعزت طور پر رہا ہوئے۔