حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 157 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 157

142 اور وقار اور ذہانت اور اسی نور کا چہرے پر اجالا جو مستقبل میں ایک عالم کو منور کرنے والا تھا میری حضور سے یہ پہلی ملاقات تھی دور سے تو حضور کو خدام الاحمدیہ کے اجتماع پر بھی دیکھا تھا قریب سے اب دیکھا۔اللہ اللہ یہ دیکھنا کیا تھا ایک روحانی تجربہ تھا اور اس مسکراہٹ کو اب کون نہیں جانتا جو اب تاریخ کا حصہ بن چکی ہے، مسکرائے اور کچھ اس محبت سے ملے جیسے مدتوں کے بچھڑے ہوئے ملتے ہیں فرمایا کہ تقرری ہو گئی ابھی کالج تو نہیں کھلا لیکن داخلے کے لئے طلباء آنے شروع ہو جائیں گے آپ کو ہوسٹل کا سپرنٹنڈنٹ بھی مقرر کیا گیا ہے گیسٹ ہاؤس میں شفٹ کر جائیں وہیں ہوٹل کا انتظام ہو گا۔EE ابتدائی ایام کا بے تکلف ماحول کسی ادارے کو آغاز سے کامیابی کے ساتھ چلانا اور اس کی بنیادوں کو مستحکم کرنا ایک بہت مشکل مرحلہ ہوتا ہے مرکز سلسلہ احمدیہ میں کالج کا کامیابی سے چل پڑنا اور اس میں پچاس فیصد غیر احمدی طلباء کا داخلہ لینا کوئی معمولی بات نہیں ہے اس کے پیچھے جہاں حضرت مصلح موعود کی دعاؤں اور توجہات روحانی کا دخل ہے وہاں اس کے بانی پرنسپل کی انتھک محنت اور خلوص اور ان مخلصانہ کوششوں کا بھی تعلق ہے جو اس ادارے کے لئے آپ نے صرف کیں۔یہاں اس امر کا ذکر کرنا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اماں جان جنہوں نے آپ کی بچپن میں تربیت فرمائی تھی اور انہیں آپ سے اور آپ کو ان سے بے حد محبت تھی انہوں نے کالج کے بالکل ابتدائی دنوں میں ہوسٹل میں اپنے ذاتی بر تن دیگچے دیگچھیاں ، پراتیں ، پلیٹیں ، گلاس سکر وغیرہ دیئے جن میں کھانا پکنا شروع ہوا اور ہر برتن پر نصرت جہاں بیگم کے مبارک الفاظ کنداں تھے کافی عرصہ ان برتنوں میں کھانا پکتا رہا اور طلباء حضرت اماں جان کی بابرکت پلیٹوں میں کھاتے کالج کی ابتدا میں ہی آپ کے مشفقانہ سلوک کا ایک واقعہ چوہدری محمد علی صاحب کھاتے رہے۔رض