حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 158
143 یوں بیان کرتے ہیں:۔ا بھی قادیان میں کالج شروع ہوئے دو چار ہی دن ہوئے تھے کہ رات کو شدید بارش ہوئی۔صبح اٹھے تو گہرے بادل چھائے ہوئے تھے اور ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی۔ہم نے گیسٹ ہاؤس سے حضور کی خدمت میں درخواست بھیجی کہ بارش ہو رہی ہے۔ہوسٹل کالج سے فاصلے پر ہے۔آج چھٹی کا اعلان کیا جائے۔اس پر جو جواب آیا وہ کچھ اس طرح سے تھا۔"اچھا اگر کل بھی بارش ہوئی اور پرسوں بھی تو پھر ؟" اس پر ہم لوگ بہت شرمندہ ہوئے کہ ایسی نامعقول درخواست بھیجی ہی کیوں اور کالج جانے کی تیاری کرنے لگے۔ابھی دو چار منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ حضور بنفس نفیس خود ہوسٹل میں تشریف لے آئے۔ہماری اپنی یہ حالت تھی کہ اپنی احمقانہ درخواست پر نادم تھے۔ہم نے معذرت کرنی چاہی تو فرمایا کہ چلو بڑے کمرے میں چل کر بیٹھو۔کمرہ چارپائیوں سے پر تھا۔ایک چارپائی پر حضور تشریف فرما ہوئے۔جب ہم نے معافی مانگی تو فرمایا :۔” اب اس جرم کی سزا یہ ہے کہ ایک آج چھٹی، دوسرے اپنی نظم سنائیں" میں نے اپنی دانست میں اس عیب کو چھپایا ہوا تھا۔میرے پاس اس محبت اور شفقت کا کیا جواب تھا۔نظم بھی ہوئی پھر کلائی پکڑنے کا دور بھی ہوا۔خوشیاں بکھیر کر حضور واپس تشریف لے گئے تو ہم میں سے ہر اپنے آپ کو پہلے سے زیادہ دولت مند اور قسمت کا دھنی سمجھ رہا تھا۔محبت کی یہ دولت حضور نے ساری عمر بانٹی اور سب میں بانٹی۔کالج کی ساری فضا اس محبت اور بے تکلفی میں بسی ہوئی تھی۔"