حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 141
126 اس ادارے کو دے دیا تھا اور بڑی محنت سے اس کی نشوونما کی طرف توجہ کی تھی اور اس زمانہ میں جب میں نے حساب لگایا تو مجھے اس بات سے بڑی خوشی ہوئی کہ پہلے یا دوسرے سال جتنے جامعہ احمدیہ کے واقفین زندگی تبلیغ اسلام کے میدان میں اترے اس سے پہلے پانچ یا سات سال کے طلباء کی مجموعی تعداد بھی اتنی تھی اور اس زمانہ کے بہت سے طالب علم ہیں جو اس وقت تبلیغی میدان میں کام کر رہے ہیں۔" کہ آپ کے طریق تدریس اور طلباء سے مشفقانہ سلوک کے بارہ میں آپ کے ایک شاگرد رشید محترم محمد وقیع الزمان خان صاحب لکھتے ہیں۔یہ اگست یا ستمبر ۱۹۳۹ء کی بات ہے یعنی حضور کے مسند خلافت پر فائز ہونے سے چھبیس سال پہلے کی۔آپ آکسفورڈ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہو کر آئے تھے اور بطور پرنسپل جامعہ احمدیہ تقرر ہوا تھا۔میں جامعہ احمدیہ کا درجہ اولی )First Year) کا طالب علم تھا۔حضور کا طریق تدریس یہ تھا کہ جو مضامین ہمیں پڑھاتے تھے ان کے مختلف پہلوؤں پر تحقیق کرنے کے لئے طلبہ کو ہی مختلف عنوانات دے دیتے تھے جن پر وہ کورس سے باہر کی کتابوں کے مطالعہ کے بعد مقالات لکھ کر کلاس میں پڑھ کر سنایا کرتے تھے۔مجھے بھی اسی قسم کا ایک مضمون ریسرچ کے لئے ملا ہوا تھا اس کے لئے مجھے ایک کتاب کی ضرورت پڑی جو کسی لائبریری میں نہ ملی جب میں نے حضور سے اس کا ذکر کیا تو فرمایا کہ یہ کتاب میری ذاتی لائبریری میں گھر پر موجود ہے لیکن چونکہ ضخیم کتاب ہے اور مجھے خود اس کی ضرورت گاہے گاہے پڑتی رہتی ہے اس لئے تم یہ کرو کہ ظہر کے بعد ایک دو گھنٹے کے لئے میرے گھر آجایا کرو اور وہیں بیٹھ کر پڑھ لیا کرو اور یادداشت کے لئے خلاصہ لکھ لیا کرو۔میں نے اس خیال سے کہ ظہر کے بعد ہی حضور کے لئے تھوڑا سا آرام۔