حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 142 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 142

127 کا وقت ہوتا ہے اس وقت میرے روزانہ جانے سے حضور کے اور اہل خانہ کے آرام میں خلل واقع ہو گا معذرت کرنا چاہی تو اصرار کے ساتھ حکم دیا کہ نہیں تمہیں ضرور آنا ہو گا چنانچہ میں حاضر ہوا حضور نے خود اپنی لائبریری دکھائی جو ڈرائنگ روم میں تھی، وہ کتاب دکھائی ،گرمی کے دن تھے۔شربت سے تواضع فرمائی اور میں اپنے کام میں لگ گیا اس کے بعد چار پانچ ہفتے متواتر اس سلسلے میں دولت کدہ پر حاضر ہوتا رہا۔ہمیشہ ڈرائنگ روم کا دروازہ کھلا پایا۔ہمیشہ حضور متبسم چہرے سے خوش آمدید فرماتے اور شربت کا گلاس بلاناغہ بھیجواتے۔ایک دفعہ بھی یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ میرے آنے سے آرام یا مصروفیت میں خلل پڑتا ہے اور یہ کریمانہ سلوک ایک غیر معروف فرسٹ ائیر کے طالب علم کے ساتھ تھا جس کے ساتھ حضور کا کوئی تعلق سوائے اس کے نہ تھا کہ وہ جامعہ احمدیہ کا طالب علم تھا اور حضور اس کے پرنسپل تھے۔" آپ کے طریق تدریس کے بارہ میں آپ کے ایک اور شاگرد رشید مولوی غلام باری سیف صاحب لکھتے ہیں۔" طالب علمی میں حج کی تفصیل تو پڑھتے لیکن سمجھ نہ آتی تھی۔۔۔حضور (یعنی حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب خلیفة المسیح الثالث) جامعہ کے پرنسپل تھے آپ نے حضرت اقدس کے باغ میں عملی طور پر طلباء کو سمجھانے کے لئے اہتمام فرمایا۔منی، مزدلفہ ، عرفات کے مقامات متعین کئے طلباء کو عملی طور پر سمجھانے کے لئے منی میں قربانی کے لئے ذاتی طور پر اپنی بڑی بیج مہیا فرمائی ، اسے ذبح کروایا اور پھر وہ طلباء کو بطخ دے دی کہ ہوسٹل میں پکوائی جائے۔اس کا نتیجہ ہے کہ اب یہ تفصیل زبانی یاد ہے۔