حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 140
125 انہیں فلسفہ پڑھایا۔منطق کے متعلق میں نے انہیں کہا کہ صرف اصطلاحیں ہیں اور کوئی چیز نہیں۔اگر منطق واقعی اس طریق فکر کا نام ہے جس کے متعلق ہمارا دماغ کام کرتا ہے اور اصطلاحوں میں طریق بیان کا نام ہے تو ایک بچہ بھی اس طرح سوچتا ہے اگر ایک بچہ کے سامنے وہ چیزیں رکھی جائیں خواہ وہ گنتی نہ جانتا ہو اور وہ زبان سے چار نہ کہہ سکے لیکن اس کی سمجھ اور عقل میں یہی ہو گا کہ یہ چار چیزیں ہیں۔یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ انہیں چار کی بجائے آٹھ سمجھنے لگ جائے تو دن رات صبح شام ہمارا دماغ ان طریقوں پر کام کرتا ہے۔صرف ہم نے کچھ اصطلاحیں بنائی ہیں اور اس کو منطق کا نام دے دیا ہے۔اس میں کوئی مشکل نہیں ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے یہ فضل کیا کہ میری کلاس جب پہلی دفعہ یونیورسٹی میں گئی تو جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے سارے کے سارے طلباء پاس ہو گئے۔اس وقت مجھے اپنے رب کی قدرتوں کا مزید یقین ہوا اور میں نے سمجھا کہ علوم کا سیکھنا اور سکھانا بہت حد تک اللہ تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہے اور کمزور انسان ہونے کی حیثیت سے ہماری کوششوں میں جو کمی رہ جاتی ہے اس کمی کو ہم اپنی دعاؤں سے پورا کر سکتے ہیں یہ تجربہ ۱۹۴۱٬۱۹۴۰ سے اب تک مجھے رہا ہے۔۔۔۔پس میرا اپنے سارے زمانہ میں یہ تجربہ رہا ہے کہ جب ہم اپنے رب کی طرف عاجزی اور انکساری کے ساتھ جھکتے ہیں تو وہ اپنے فضل اور رحم کی بارشیں ہم پر کرتا ہے۔ہمارا خدا بخیل نہیں بلکہ بڑا دیا لو ہے اور اگر کبھی ہم کامیاب نہیں ہوتے تو اس کا سبب صرف یہ ہوتا ہے کہ ہم بعض دفعہ لا پرواہی سے کام لیتے ہیں اور اس کی طرف جھکنے کی بجائے دوسرے دروازے کو کھٹکھٹانے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ دروازے کھولے نہیں جاتے۔تو اس زمانہ میں جب میں جامعہ میں تھا میں نے اپنا دل اور دماغ