حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 123
108 آواز پہنچا رہے ہیں۔بہتوں نے اس حقیقت کو پہچانا۔اور آج مرکز میں وہ مشغول کار ہیں۔مگر بہت سے میرے جیسے ایسے بھی ہیں جو یہ کہتے ہوئے کہ یاران تیز گام نے محمل کو جا لیا ہم محو نالہ جرس کارواں رہے غفلتوں اور کو تاہیوں پر بیٹھے آنسو بہا رہے ہیں اور کر کچھ نہیں سکتے۔اس لئے میں حضور کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ اگر حضور مناسب فرماویں تو بندہ ہمیشہ کی طرح اب بھی فوراً خدمت سلسلہ کے لئے حاضر ہے۔بی۔اے اور ایم اے بنے کا مجھے کبھی بھی شوق نہیں ہوا اور خدا تعالیٰ شاہد ہے۔گو اس کا اظہار پہلے نہ ہو سکا اور گو بعض اور خیالات نے اس کی طرف مجبور کیا۔گو وقف کنندہ ہوں مگر پھر دوبارہ اپنے کو حضور کے سامنے پیش کرتا ہوں۔بندہ اسی وقت سے خدمت احمدیت کے لئے حاضر ہے۔اور سلسلہ کی غلامی کو سب عزتوں سے معزز سمجھتا ہے اور سلسلہ کی خدمت سے علیحدہ رہتے ہوئے اپنی زندگی کو خالی اور فضول پاتا ہوں۔وما توفیقی الا باللہ۔فقط خاکسار مرزا ناصر احمد حضرت المصلح الموعود کو اس خط سے جو راحت اور خوشی پہنچی اس کا اظہار آپ نے ایک خط میں فرمایا جس کا ایک حصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے۔پیارے ناصر احمد السلام علیکم ورحمة الله و بركاته تمہارا ایک خط تو پہلی دفعہ ملا تھا اور دو اب۔میں نے پہلے خط کا جواب بھی اب تک نہیں دیا کیونکہ اس وقت میرے جذبات بہت متاثر تھے اور میں فوراً جواب دینے کے قابل نہ تھا۔اللہ تعالیٰ تمہارے ارادہ میں برکت ڈالے۔میں خود اس بارہ میں باوجود شدید احساس کے کچھ کہنا پسند نہیں کرتا تھا اور اللہ تعالٰی سے دعا کرتا تھا کہ وہ خود ہی تم کو نیک ارادہ کی توفیق دے کیونکہ میرے نزدیک میری تحریک پر تمہارے ارادے کو بدلنا تمہارے ثواب کو ضائع کر دیتا۔سو الحمد للہ کہ تمہارا دل اس طرف متوجہ ہوا۔