حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 124
109 مجھے سخت افسوس آتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تعلق کی عظیم الشان نعمت کی ہمارے خاندان نے قدر نہیں کی۔ہمارے نوجوانوں کے اعمال اور احساس اس مقام سے بالکل مختلف ہیں جو انہیں خدا تعالیٰ نے بخشا تھا۔اگر دنیا کی ہر تکلیف کا شکار ہو کر بھی ہم اس مقام کے وقار کو قائم رکھنے کی کوشش کرتے تو یہ احسان الہی کا بدلہ نہیں ہو سکتا تھا۔جو خدا تعالیٰ کے لئے ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ خود اس کا کفیل ہو جاتا ہے۔ہمارا خدا زندہ خدا ہے جو سچ مچ اس کے لئے موت قبول کر لیتا ہے بشرطیکہ وہ موت کچی ہو ، بشرطیکہ انسان اپنے نفس کو اس کے لئے بالکل مار دے، بشرطیکہ وہ وہ ماسوی اللہ سے باوجود دنیا میں بسنے کے آزاد ہو جائے اور خدا تعالیٰ کے معاملہ میں اور سلسلہ کے معاملہ میں اس کے کسی رشتہ دار کا خواہ اس سے کس قدر ہی محبت ہو۔اور کسی دوست کا خواہ اس کا اس پر کس قدر ہی اثر ہو اور کسی اور غرض کا خواہ وہ کس قدر ہی پیاری ہو اس پر کوئی اثر نہ ہو۔یہ راستہ ہے جو ہمارے خاندان کے لئے اللہ تعالیٰ نے تجویز کیا ہے۔بغیر اپنے مٹا دینے کے اسلام آج کامیاب نہیں ہو اسلام کا سوال کھیل نہیں کہ یوں ہی طے ہو جائے وہ ایک ایسا مشکل کام ہے کہ اس سے پہلے اس قدر مشکل کام کبھی دنیا کو پیش نہیں آیا۔اس کے لئے دیوانوں کی ضرورت ہے۔اسی زندگی میں موت کو قبول کر لینے والوں کی ضرورت ہے اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ اس بارہ میں ہمارے خاندان پر نظر رکھتا ہے۔۔۔۔۔۔یہ راستہ ہے جو سچا راستہ ہے اس کی نسبت خدا تعالیٰ کا الہام فرماتا ہے کہ اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے سکتا۔یہ عالی مقام تمہارے لئے ہر فرد خاندان کے لئے اور ہر مخلص احمدی کے لئے ممکن الحصول ہے اگر دیکھنے والی آنکھیں ہوں اور اگر سننے والے کان ہوں اور اگر سوچنے والا ول ہو۔وَالله المستعان وعليه التكلان - کالج کے متعلق جو تم نے دریافت کیا ہے میرا خیال ہے کہ جرمن زبان بہتر رہے گی کیونکہ فرانسیسی پڑھنے کے سامان ہندوستان میں کالج کے باہر بھی کافی ہیں۔والسلام مرزا محمود احمد