حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 69 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 69

69 آواز میں بڑی دلیری اور جلال تھا۔سب نے بوکھلا کر آواز دینے والے کی طرف گرد نہیں گھمائیں۔میں نے آواز پہچان لی تھی۔جو لوگ مجھ پر حملہ کرنے کے لئے کھڑے ہو چکے تھے۔میں بڑی تیزی سے ان کو دھکیلتا اور بیٹھے ہوئے حاضرین جلسہ پر سے پھلانگتا ہوا سچ مچ دس سکینڈ کے اندر آواز کے مرکز تک پہنچ گیا۔مسجد کے عین کنارے صاحبزادہ حضرت مرزا ناصر احمد ہاکی بلند کئے کھڑے تھے۔ساتھ پانچ چھ دوسرے احمدی طلباء ہاکیاں اٹھائے پوزیشن لئے اپنے لیڈر کے حکم کے منتظر کھڑے تھے۔میں ان سے جا ملا تو پھر ایک اور آواز اسی دلیری اور اسی جلال سے بلند ہوئی۔"ہم فساد کرنے یا ہڈیاں توڑنے کے لئے نہیں آئے۔ہم امن قائم رکھنے اور کسی مظلوم انسان کی ہڈیاں توڑنے کی کوشش کرنے والوں کو اس حرکت سے روکنے کے لئے آئے ہیں۔" صاحبزادہ حضرت مرزا ناصر احمد کی آواز نے اچانک ہیبت طاری کر دی۔مولوی ظفر علی صاحب اور حاضرین سب کے سب دم بخود ہو کر اٹھی ہوئی ہاکیوں کی طرف تک رہے تھے کہ یہ مختصری فوج کہاں سے یکا یک نازل ہو گئی۔اب حضرت صاحبزادہ صاحب نے حرکت کی اور ان کی قیادت میں میرے سمیت دوسرے دوست «عظیم سٹریٹ" سے ہوتے ہوئے سرکلر روڈ پر آگئے۔وہاں سے چند قدم آگے جا کر کراؤن وٹل کے قریب خالی جگہ پر پہنچے تو حضور کھڑے ہو گئے۔سب نے ہاکیاں نیچے کر لی تھیں۔اب حضور مجھ سے مخاطب ہوئے اور پوچھا کہ میں کیسے اس فساد کی جگہ پہنچ گیا۔میں نے ساری صورت حال بیان کر دی۔معلوم نہوا اس دن حضور کشتی رانی کے لئے چند دوستوں سمیت دریائے راوی پر گئے ہوئے تھے جب وہ کشتی رانی سے فارغ ہو کر احمد یہ ہوٹل واپس جانے کے لئے دریائے راوی سے روانہ ہوئے تو ہو