حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 68
68 میرے اس جواب پر مولوی ظفر علی خان پھڑک اٹھے اور حفیظ سے مخاطب ہو کر بولے ”حفیظ صاحب! کوئی احمدی شاعر نہیں ہو سکتا اور کوئی شاعر احمدی نہیں ہو سکتا۔تبسم صاحب کو میرے پاس لاتے رہا کرو۔یہ عظیم شاعر بن سکتے ہیں بشرطیکہ یہ احمدی نہ رہیں۔ان کو احمدیت چھوڑنا پڑے گی" بات صرف اتنی ہوئی اور ہم اٹھ کر آ گئے۔دوسرے دن مولوی صاحب نے زمیندار اخبار کا پورا ایک صفحہ میرے خلاف لکھ مارا اور ساتھ ہی دو دن بعد اسلامیہ کالج سے ملحق مسجد مبارک میں اس موضوع پر اپنا لیکچر رکھ دیا۔مجھے اس کا پتہ نہیں تھا۔لیکچر والے دن میرے تین چار غیر از جماعت دوست آئے اور کئی غلط بیانیاں کر کے مجھے اپنے ہمراہ اسلامیہ کالج لے گئے۔وہاں پہنچ کر انہوں نے مجھے زبردستی اٹھایا اور مسجد مبارک کے اندر لے گئے۔اس وقت مولوی ظفر علی خان مسجد کے صحن کے درمیان کھڑے میرے خلاف تقریر کر رہے تھے۔میرے دوستوں نے مجھے عین مولوی صاحب کے پاس کھڑا کر دیا۔مجھے دیکھ کر مولوی صاحب نے کہا۔یہ ہے وہ منہ پھٹ اور دریدہ دہن آدمی۔اب اسے یہاں سے زندہ نہیں جانے دینا چاہئے۔مسلمانو! تمہاری غیرت کا تقاضا ہے کہ اس کی ہڈی پسلی ایک کر دو " اس پر سخت طیش اور اشتعال پھیل گیا۔کئی لوگوں کی آنکھوں میں خون اتر آیا اور وہ مجھ پر پل پڑنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔شدید افرا تفری پیدا ہو گئی۔ابھی کوئی ہاتھ میرے جسم تک نہیں پہنچ پایا تھا کہ کچھ فاصلے سے ایک پر جلال آواز گونجی۔دو میں عشرہ کاملہ کا صدر ہونے کی حیثیت سے عشرہ کاملہ کے رکن عبدالرشید تبسم کو حکم دیتا ہوں کہ وہ دس سکینڈ کے اندر مجھ تک پہنچ جائیں۔دس سیکنڈ کے اندر "