حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 692 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 692

642 خدا کے لئے ان کو چھوڑیں۔۔۔۔۔۔۔میں نے لڑکی والوں سے کہا میں تو ایک جوڑا بری میں دوں گا اور اسی طرح آؤں گا۔نہ آپ ہمیں پانی کا پوچھیں نہ مجھے پسند آئیں گے بجلی۔کے چھوٹے چھوٹے رنگ برنگے بلب نہ جھنڈیاں۔سادگی کے ساتھ میں آؤں گا، چند ہوں گے ساتھی میرے ساتھ اور وہاں بیٹھیں گے، باتیں کریں گے اور دعا کریں گے اور دلہن کو لے آئیں گے تو آپس میں مشورہ کر کے انہوں نے کہا ٹھیک۔ہے۔پھر وہ میری ایک اور ہمشیرہ ناصرہ بیگم یہی ایک جوڑا لینے لاہور گئی تھی تو وہ تین لے آئیں۔۔۔۔۔۔میں نے ان کو کہا تین آگئے ہیں وہ بھیج دوں ؟ انہوں نے کہا نہیں ایک بھیجیں آپ۔تو ہم اس رسم کی تجدید کر رہے ہیں رسم نہیں، حقیقت اور جو سادگی ہے اس کی تجدید کر رہے ہیں اور بالکل سادگی کے ساتھ ایک ہزار روپے۔۔۔۔۔۔؟ Mee حضور نے اس موقع پر رسم و رواج کے پابند لوگوں کی بابت فرمایا :۔” میرے پاس آتے ہیں۔تو بڑی کوفت ہوتی ہے، جیز کے اوپر اختلاف ہو گیا، پھر خلع لینے کے لئے ، پھر یہ کہ اس نے ہمیں پیسے نہیں نہیں دیئے رشتہ داروں کے جوڑے بھی نہیں دیتے۔یہ نہیں دیا، وہ دیا۔تمہیں اس وقت سوائے خدا تعالیٰ کے پیار کے اور کچھ نہیں چاہئے۔اس کے پیار کو حاصل کرنے کی کوشش کرو۔اس دنیا میں بھی کامیاب ہو جاؤ گے ، اخروی زندگی میں بھی کامیاب ہو جاؤ گے Free أَطْعِمُوا الْجَائِعَ حضرت خلیفہ المسیح الثالث" نے ۱۷ دسمبر ۱۹۶۵ء کے خطبہ جمعہ میں اس تحریک کا اعلان فرمایا حضور کے خطبہ جمعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ