حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 691 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 691

641 بلکہ یہ تکلفات، یہ رسوم یہ سینما بینی یہ سب دنیا کی لعنتیں ہیں۔ہم تو خدا کے ہو چکے اس لئے ہمیں ان سے کوئی علاقہ نہ ہونا چاہئے “ ہی حضرت خلیفہ المسیح الثالث" نے اپنے نکاح ثانی کے موقع پر جو اا۔اپریل ۱۹۸۲ء کو ہوا تھا خطبہ نکاح ارشاد کرتے ہوئے بد رسوم کے خلاف جہاد کا اعادہ فرمایا اور سادگی کے ساتھ رخصتانے کے بارے میں فرمایا :- " جس نکاح کا میں اعلان کرنے لگا ہوں وہ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ہمارے خاندان کی تاریخ میں یہ تیسرا نکاح ہو رہا ہے کہ جو خود اس رشتہ کا دولہا بننے والا ہے وہ آپ ہی خطبہ نکاح بھی پڑھنے والا ہے۔حضرت مصلح موعود بھی اللہ نے اپنے دو نکاح خود پڑھے۔محترمہ آپا سارہ بیگم صاحبہ اور محترمہ آپا بشری بیگم صاحبہ جو ”مہر آپا" کہلاتی ہیں ان کا۔تو طاہرہ خان جو عبد المجید خان صاحب کی صاحبزادی ہیں ایک ہزار روپے مهر پر مرزا ناصر احمد جو اس وقت بول رہا ہے سے قرار پایا ہے۔منصورہ بیگم کا مہر ایک ہزار روپے تھا۔۔۔۔میری ہمشیرہ امتہ الباسط انہی دنوں میں مجھے کہنے لگیں کہ میری امی کو تو حضرت صاحب بس جاکر رخصت کروا لائے تھے اور اخبار میں چھپا ہوا ہے۔میں نے وہ اخبار کا Quotation نکلوایا تو زیادہ روشنی ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب نے اس کے اوپر ڈالی کہ تانگے پر بیٹھ کے۔(قادیان کی بات ہے) ۷ فروری ۱۹۲۱ء کو دو ہی گئے حضرت صاحب اور ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب اور یہ کچھ تاریخ نے پورا واضح نہیں کیا کہ حضرت اماں جان) ایک دو مستورات کے ساتھ ساتھ گئیں یا علیحدہ گئیں) بہر حال گئے وہاں ، باتیں کیں ، واپس آگئے اور حضرت اماں جان) انہیں رخصت کروا کے شام کے وقت گھر لے آئیں اور باسط نے یہ بھی بتایا کہ ایک جو ڑا بری کا گیا تھا۔یہ اس لئے بتا رہا ہوں کہ جو آپ بدعتیں بیچ میں شامل کر رہے ہیں