حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 693 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 693

643 " خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کا ہمیں تاکیدی حکم ہے کہ مسکینوں ، قتیموں اور اسیروں کو کھانا کھلایا جائے" حضور نے سورۃ الدھر کی آیات ۹ تا ۱۲ وَ يُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينا و يَتِيمَا وَاسِيرًا۔۔۔کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا:۔_ اپنی ہے ” ہمارے نیک بندے۔۔۔۔کھانا کھلاتے ہیں۔۔۔۔۔۔مسکین کو ، یتیم کو اسیر کو۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جن لوگوں کو پوری غذا میسر نہیں اور ان کو ضرورت ہے ان کی مدد کی جائے جس کے بغیر وہ ضرورتوں کو پورا نہیں کر سکتے بھوک کا مسئلہ ایک ایسا مسئلہ جس کی طرف جب قومیں توجہ نہیں دیتیں تو ان قوموں میں بڑے بڑے انقلاب برپا ہو جاتے ہیں جیسے کہ روس میں۔۔۔۔۔۔میرا یہ احساس ہے کہ جماعت کی اس حکم کی طرف پوری توجہ نہیں ہے۔کوئی احمدی رات کو بھوکا نہیں سونا چاہئے۔سب سے سے پہلے یہ ذمہ داری افراد پر عائد ہوتی ہے۔اس کے بعد جماعتی تنظیم اور حکومت کی باری آتی ہے۔اگر ایک احمدی بھی ایسا ہے جس کی غذائی ضروریات پورا کرنے میں ہم غفلت برت رہے ہوں تو ہمیں بحیثیت جماعت خدا تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے گا۔۔۔۔۔آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ کون ہے وہ حاجت مند جسے ہم نے کھانا دینا ہے۔اس کے لئے آپس میں تعلقات اور آپس میں پیار کے بڑھانے کی ضرورت ہے اور اپنی تنظیم کو اس طرح اخوت کی بنیادوں پر مضبوط کرنے کی ضرورت ہے کہ محلہ والوں کو معلوم ہو کہ آج فلاں گھرانہ کس وجہ سے کھانا نہیں پکا سکا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں ایسے لوگوں کو اس دن کے شر سے محفوظ رکھوں گا اور نجات دوں گا، اپنی رحمت سے نوازوں گا اور اپنی مغفرت کی چادر سے ان کو ڈھانپ لوں گا۔پس ہمارے خدا نے ایک حکم دیا ہے۔ہمارے پیارے رسول محمد مانی نے تاکید فرمائی ہے کہ