حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 596
545 ہسپتال بند کروائے لیکن بالاخر ان کو ناکام ہونا پڑا اور حضرت خلیفہ المسیح الثالث " کی جاری کردہ سکیم کامیابی کی منزلیں طے کرتی چلی گئی۔حضور نے مخالفتوں کا کئی بار ذکر کیا۔ایک موقع پر فرمایا :۔" پھر نصرت جہاں ریزرو فنڈ کا منصوبہ ہے جس کے تحت کئی ہسپتال بن گئے ہیں، سکول کھل گئے ہیں۔اس عرصہ میں کئی مخالفانہ روکیں پیدا ہوئیں۔ہمارے صبر کی آزمائش ہوئی۔پھر ہم پر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول ہوا۔بعض متعصب افسروں کی وجہ سے۔وہ ملک متعصب نہیں لیکن بیچ میں کوئی بیجیئم کا باشندہ یا بنگال کا متعصب ہندو آ جاتا ہے، ایک جگہ ہمارا ہسپتال نو مہینے تک بند پڑا رہا۔لوگوں نے ہمارے ڈاکٹر کو مشورہ دیا کہ تم اس ملک سے چلے جاؤ۔اس نے مجھے لکھا تو میں نے کہا آرام سے بیٹھے رہو کہ یہ مقابلہ ہمارے صبر اور ہمت کا اور ان کے تعصب کا ہے۔ان کا تعصب کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اور اس کی رحمت سے ہمارا صبر اور ہماری قوت برداشت ہی بالاخر کامیاب ہوئی۔چنانچہ ہم نے نو مہینے تک ڈاکٹر اور اس کے سٹاف کو فارغ نہیں کیا۔میں نے ہدایت کی تھی کہ سب کو تنخواہیں دیتے چلے جاؤ۔ہمیں خدا تعالیٰ دیتا ہے تو تم بھی لوگوں کو دیتے چلے جاؤ۔اگر متعصب لوگ یہ تماشا دیکھنا چاہتے ہیں تو یہ بھی دیکھ لیں کہ خدا تعالیٰ کی جماعت کا قدم پیچھے نہیں بنا کرتا۔چنانچہ نو مہینے کے بعد اب وہاں کی حکومت نے ہسپتال کی اجازت دے دی ہے"۔(خطبه جمعه فرموده ۵ اپریل ۱۹۷۴ء) نصرت جہاں منصوبہ کی غیر معمولی مقبولیت نصرت جہاں منصوبہ کو جو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی اور جس طرح عیسائیت سے ہٹ کر احمدیت کے حق میں وہاں کے لوگوں کی رائے بدلی اس کا اندازہ بعض