حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 240 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 240

225 سیاہ گرم شیروانی سلوا دیں۔چنانچہ چند دن کے بعد سید ناصر بهترین گرم شیروانی میں ملبوس اکٹر اکڑ کر چلتا دکھائی دیتا اگرچہ اس میں انکسار بہت تھا اور اب تک ہے۔۹۸۴ سٹاف پر شفقت کے کچھ مزید واقعات پروفیسر ڈاکٹر سلطان محمود شاہد تحریر فرماتے ہیں۔" سٹاف پر حضور کی شفقت کا یہ واقعہ بھی قابل ستائش ہے کہ ایک دفعہ کالج کے امتحانات کے رجسٹرار محترم پروفیسر محمد ابراہیم صاحب ناصر مرحوم نے حضور کی خدمت میں عرض کی کہ ایک پروفیسر صاحب اپنے پرچہ کا نتیجہ نہیں دے رہے جس کی وجہ سے طلباء کے داخلے بھیجوانے کا کام رکا ہوا ہے اور دن بھی تین چار باقی ہیں۔حضور نے فرمایا کہ ابھی سٹاف میٹنگ بلائیں چنانچہ انہوں نے فوراً سٹاف میٹنگ بلائی اور جب پروفیسر صاحبان جمع ہو گئے تو حضور تشریف لائے اور فرمایا کہ تمام پروفیسر صاحبان آج ہی اپنے مضمون کے امتحان کے نتیجہ کی لسٹ محترم پروفیسر ابراہیم ناصر صاحب (مرحوم) کو دے کر جائیں اور اس میں ہرگز کو تاہی نہ ہو۔یہ فرما کر حضور واپس چلے گئے چنانچہ وہ پروفیسر صاحب جنہوں نے ابھی لسٹ نہیں دی تھی فورا نتیجہ کی لسٹ تیار کرنے لگے اور اس وقت تک سٹاف روم سے نہیں ہلے جب تک کام مکمل نہ کر لیا۔تو حضور کسی کا نام لئے بغیر اس رنگ میں سرزنش فرماتے کہ وہ سرزنش بھی نہ معلوم ہوتی اور کام بھی ہو جاتا۔99۔آپ کے انداز نصیحت کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر سلطان محمود شاہد صاحب لکھتے ہیں۔" ایک دفعہ کالج میں ایک پروفیسر صاحب نے ایک غلط فہمی کی بنا پر میرے خلاف ایک طالب علم کو کچھ باتیں کہیں۔میں نے سٹاف روم میں انہیں کچھ سخت سست کہا۔اس پر انہوں نے حضرت اقدس (پرنسپل)