حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 241
226 کے پاس میری شکایت کی۔وہ صاحب ابھی پرنسپل صاحب کے کمرے میں ہی تھے کہ میں بھی وہاں کسی کام سے پہنچ گیا تو مجھے دیکھ کر حضور نے فرمایا ”شاہد صاحب یہ ایسے ہی آپ کی شکایت کر رہے ہیں۔بھلا آپ ان کو سخت سست کیوں کہیں گے " میں کچھ شرمندہ سا ہوا حضور کا انداز نصیحت بھی نہایت پیار بھرا ہوا کرتا تھا۔مجھے یاد نہیں کہ حضور نے پرنسپل ہونے کے دوران کسی استاد کو کوئی سخت کلمہ کہا ہو یا کسی کے خلاف کوئی DISCIPLINARY ACTION لینے کا موقع آیا ہو تو حضور نے مشفقانہ انداز میں سمجھا نہ دیا ہو " ساتھی اساتذہ کے دلوں میں آپ کا غیر معمولی عزت و احترام آپ کے ساتھی اساتذہ کے دل میں آپ کا جو غیر معمولی عزت و احترام تھا اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ آپ کے ایک دیرینہ فرشتہ خصلت ساتھی فزکس کے مایہ ناز پروفیسر میاں عطا الرحمان صاحب مرحوم جو آپ کی غیر موجودگی میں قائمقام پرنسپل کے طور پر کام کرتے تھے آپ کی کرسی پر نہ بیٹھتے تھے۔پروفیسر میاں عطاء الرحمان صاحب مرحوم کا اصل وطن چونکہ بھیرہ تھا جس سے قدرت ثانیہ کے مظہر اول حضرت مولانا نورالدین بھی اللہ کا تعلق تھا اس لئے ان کا ذکر خاکسار کے والد مکرم میاں فضل الرحمان صاحب بسمل نے ایک کتابچہ بعنوان ” بھیرہ کی تاریخ احمدیت " میں یوں کیا ہے۔" حضرت مولوی نور الدین صاحب جو باوجود نماز میں پیش امام بننے کے حضرت مسیح موعود" کے مصلیٰ پر کھڑا ہونے کی جگہ سے ذرا ہٹ کر کھڑا ہوتے تھے ان کی تقلید میں جب میاں عطاالرحمان صاحب قائم مقام پرنسپل ہوتے تھے تو آپ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب رحمہ اللہ پرنسپل کی کرسی پر تشریف نہ رکھتے تھے بلکہ دوسری کرسی پر بیٹھ کر دفتر سے متعلق کام کرتے تھے۔اول