حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 211 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 211

196 ایسے ذرائع اختیار کئے جائیں جو طلبہ کی ذہنی نشوونما میں زیادہ محمد ثابت ہوں۔ہمارا رادہ ہے کہ ہم ان تمام ذرائع کو استعمال کر کے طلبہ کے فطری قومی کو صحیح نشوونما دینے کی کوشش کریں گے مگر اللہ تعالٰی کے فضل اور حضور کی دعاؤں اور رہنمائی کے بغیر کچھ نہیں کر سکتے۔۲۶۔چنانچہ اس مجوزہ طریقہ کار کو عملی جامہ پہنانے کا پورا موقع پر نسپل حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو ربوہ میں میسر آیا جہاں آپ کی جدوجہد کے نتیجہ میں نہ صرف تدریسی و تعلیمی نظام میں وسعت پیدا ہوئی اور پوسٹ گریجویٹس کلاسیں بھی شروع کی گئیں بلکہ طلبہ میں اسلامی تعلیم کی پختگی پیدا کرنے کھیلیوں کو وسعت دینے ، نظم و ضبط پیدا کرنے انڈر گریجویٹ گاؤن اور ٹوپی بطور کالج یونیفارم رائج کرنے، مختلف سائنسی ، اور فنی سوسائٹیوں کے قیام نیز حضرت مصلح موعود کی اجازت سے کالج مباحثہ جات جیسی سرگرمیوں کو جاری کیا گیا حتی کہ ۱۹۵۸ء سے تعلیم الاسلام کالج میں آل پاکستان باسکٹ بال ٹورنامنٹ کا آغاز بھی ہوا جس سے کالج کی ملک گیر شہرت و مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔علاوہ ازیں کالج میں آل پاکستان اردو کانفرنس کا انعقاد کروایا گیا اور کالج میں ایسی روایات قائم فرمائیں جن کو جاری رکھ کر کالج مسلسل ترقی کی منازل طے کرتا چلا گیا۔غیر ملکی طلباء نے کالج میں داخلے لئے۔طلبہ سے بلا تمیز مذہب و ملت محبت بھرا سلوک فرمایا۔ذہین طلبہ اور کھلاڑیوں کے لئے سویابین اور دودھ وغیرہ کا انتظام کیا۔کالج میں بے تکلفی پر محمول پاکیزہ ماحول پیدا کیا اور ہر اس سازش کو ناکام کیا جو کالج کے خلاف جاری ہوئی چنانچہ لاہور میں قیام کے دوران ایسے ہی ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری محمد علی صاحب سابق پرنسپل تعلیم الاسلام کالج لکھتے ہیں۔ایک طالب علم جو جماعت اسلامی کی انتظامیہ کا رکن تھا اور اس۔لئے آیا تھا کہ غیر از جماعت طلباء کو جماعت کے خلاف منظم کرے کالج میں داخلے کے لئے آیا۔آپ نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ آپ اس کام کے لئے آئے ہیں تو آپ یہ ضرور کام کریں۔میں آپ کو داخل کر لیتا