حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 212
197 ہوں اور فیس کی رعایت بھی دیتا ہوں لیکن آپ کو خبردار کرتا ہوں کہ آپ یہ کام نہیں کر سکیں گے اور میرے کالج میں پڑھنے والے غیر از جماعت طلباء آپ کے دام میں نہیں آئیں گے۔یہ طالب علم کافی عرصہ تک پوشیدہ اور اعلانیہ کوشش کرتا رہا لیکن بری طرح ناکام ہوا اور آپ کی شفقت اور محبت خود اس پر اثر کئے بغیر نہ رہ سکی۔۶۷۲ آپ ۱۹۶۵ء تک اس کالج کے پرنسپل رہے اور اس طرح اکیس سال کا لمبا عرصہ آپ نے اس کی غیر معمولی خدمت میں خرچ کیا اور اپنے پیچھے ایسی یادیں چھوڑیں جو کے شاگردوں اور ساتھیوں اور آپ کے ہم عصر پروفیسروں اور دوسرے کبھی آپ لکھنے والوں کے دلوں سے محو نہیں ہو سکتیں۔آپ کا کالج کے ساتھ جذباتی تعلق تھا جس کا اظہار آپ نے خلیفہ بننے کے بعد ایک بار یوں فرمایا۔جہاں تک میرے جذبات کا سوال ہے۔۔۔۔۔میں نے اپنے دل کو اپنے دماغ کو اور اپنے جسم کو اس ادارہ کے لئے خدا کے حضور بطور وقف پیش کر دیا اور بڑی محبت اور پیار کے ساتھ اس کو چلانے کی کوشش کی اور ان طلبہ کو جو یہاں تعلیم پاتے تھے میں نے اپنے بچوں سے زیادہ عزیز سمجھا ہے۔بے شک میں نے جہاں تک مناسب سمجھا سختی بھی کی لیکن اس وقت سختی کی جب میں نے اسے اصلاح کا واحد ذریعہ پایا اور بعد میں مجھے اس دکھ کی وجہ سے راتوں جاگنا پڑا کہ کیوں میرے ایک بچہ نے مجھے اس سختی کے لئے مجبور کر دیا حتیٰ کہ مجھے یہ قدم اٹھانا پڑا۔کئی راتیں ہیں جو میں نے آپ کی خاطر جاگتے گزار دیں اور ہمیشہ ہی آپ کے لئے دعائیں کرتا رہا اور پھر میں نے اپنے رب کا پیار بھی محسوس کیا کہ وہ اپنے فضل سے میری اکثر دعائیں قبول کرتا رہا۔" آکسفورڈ جیسا ماحول کالج میں جو ماحول حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی کوششوں سے پیدا ہوا