حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 210
་ 195 زیادہ تر توجہ ATHLETICS کی طرف ہے اور اس وجہ سے ان قوموں کے طلبہ کی صحتوں پر کوئی برا اثر نظر نہیں آتا۔ہمارا ارادہ بھی ATHLETICS کی طرف زیادہ توجہ دینے کا ہے۔(۵) دنیا کی بہت سی درس گاہیں اساتذہ اور طلبہ کے لئے کسی خاص لباس کی تعین کر دیتی ہیں اور تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں میں بھی یہ رواج رہا ہے۔اس سے یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ طلبہ کی اخلاقی نگرانی زیادہ آسانی سے کی جا سکتی ہے اور ڈسپلن کا قیام بہتر طریق پر ہوتا ہے اگر حضور اسے پسند فرمائیں تو ہمارے لئے بھی کوئی لباس مثلاً کسی خاص قسم کی اچکن اور شلوار مقرر فرمائیں۔(۲) طلبہ میں تعلیمی دلچسپی بڑھانے کے لئے مختلف سوسائیٹیز کے قیام کا ارادہ ہے مثلاً (۱) عربک سوسائٹی (۲) پرشین سوسائٹی (۳) فلو سافیکل سوسائٹی (۴) ریلیجس ریسرچ سوسائٹی (۵) اکنامکس سوسائٹی اور (۲) بزم حسن بیاں۔عام طور پر کالج یونین میں طلبہ کی قوت بیان کو بڑھانے کے لئے DEBATES کا طریقہ رائج ہے مگر یہ طریق ہمارے ہاں پسندیدہ نہیں اس لئے انشاء اللہ العزیز ہم کالج کی بزم حسن بیان میں DEBATES کے طریق کو ترک کر کے تقریر کے طریق کو رائج کریں گے اور امید ہے کہ ہمارے طلبہ تقریر کے میدان میں محض اس طریق کی وجہ سے دوسروں کے پیچھے نہ رہیں گے۔سے نئے سے نئے تعلیمی طریقے اور سکیمیں جن میں سے جدید ترین مسٹر جان سارجنٹ کی رپورٹ ہے پبلک کے سامنے آتے رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارا رائج الوقت طریقہ تعلیم تسلی بخش نہیں۔۔۔ہمارے لئے یہ تو ممکن نہیں کہ ہم پنجاب یونیورسٹی کی پالیسی کو چھوڑ کر کسی نئے طریقہ تعلیم کو اپنے کالج میں رائج کریں لیکن۔۔۔۔یہ ممکن ہے کہ بعض