حصارِ

by Other Authors

Page 7 of 72

حصارِ — Page 7

اور جنگی مہارت رکھنے والے تمام افراد اگر شام کی طرف چلے گئے تو دشمن فائدہ اٹھاکر مدینہ پرحملہ کرکےمسلمانوں کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔اگر دنیا وی سوچ اور فہم سے غور کیا جاتا تو صحابہ کی یہ رائے ماننا عین ضروری تھا مگر خلیفہ وقت نے جس کی ہر سوچ تائید خداوندی پر ایمان کے سانچے میں ڈھلی ہوئی اور ہر فیصلہ کا انحصا خُدا داد بصیرت پر ہوتا ہے ، بڑے استقلال اور حلال سے پر الفاظ میں فرمایا۔وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي بَكْرِ بِيَدِهِ لَوْظَنَنْتُ اَنَّ السَّمَاعَ تُخْطِفُي لَا نُفَذَتُ بَعْثَ أسَامَةَ كَمَا أَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ لَوْلَمْ يبقى في القُرى غَيْرِى لَا نُفَدُتُه - کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں ابو بکر کی جان ہے ، اگر مجھے یہ بھی خیال ہو کہ در ندرسے مجھے چیر پھاڑ دیں گے پھر بھی میں ضرور اُسامہ کے لشکر کو اسی طرح روانہ کروں گا جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی روانگی کا حکم دیا تھا اور اگر میر سے علاوہ اور کوئی بھی باقی نہ رہے تب بھی میں اسے اور وہ لشکر روانہ کر دیا گیا۔ضرور روانہ کروں گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : - اَصْحَابِی النُّجُومِ بِاتِهِ اقْتَدَيْتُ وَ اهْتَدَيْتُ کہ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں۔کسی ایک کی بھی پیروی کرو تو راہ ہدایت حاصل کر سکتے ہو کتنا عظیم مقام ہے صحابہ رضوان اللہ علیہم کا کہ ہدایت کے لیے بڑے سے بڑے بزرگ کو بھی انہیں کے در سے راہنمائی ملتی ہے۔گویا چودہ صدیوں کے اولیاء اللہ اور مجتہدین خادم اور مطبع ہیں ایک صحابی کے اور ادھر در بار ابو بکریہ میں ایک لاکھ چونہیں ہزار صحابہ سر جھکائے کھڑے نظر آتے ہیں خلیفہ وقت کے سامنے۔تمام صحابہ خادم اور مطبع ہیں خلیفہ وقت کے۔وہ عظیم الشان وجود، نور بصیرت سے معمور صحابہ کرام جن کے ارادوں سے سنگلاخ چٹانیں بھی موم ہو گئیں۔جن کی ایک نظر چلتے قافلوں کا رخ بدل دیتی تھی جن کا ایک فیصلہ حکومتوں کا رخ بدل دیتا تھا۔بڑی بڑی سلطنتوں کے سامنے بھی جن کا سر فخر سے اٹھا ہوتا تھا۔آج ان تمام کا سر خلیفہ وقت کے سامنے جھکا نظر آتا ہے سب کے ارادے ، سب کی آراء خلیفہ وقت کے فیصلہ اور عزم کے سامنے کسی حیثیت کی حامل نہیں۔