حصارِ — Page 8
و ہی صحابہ جن کا قول تمام امت مسلمہ کے لیے واجب العمل ہے۔خلیفہ وقت کا قول ان سب صحابہ کے اقوال پر فائق اور اولی ہے وہی صحابہ ، اگر کسی ایکے نمونہ کو اپنا یا جائے تو ہدایت مل جاتی ہے۔به تمام ہدایت حاصل کرنے والے ہیں خلیفہ وقت سے بہر حال اس واقعہ نے اُمت مسلم واضح کر دیا کہ - پر ا۔خلیفہ وقت کا مقام کسی عظمت و شان کا حامل ہے۔۲۔وہ نبی کے بعد ہر مومن کا مطارع اور آقا ہوتا ہے۔وہ شریعت کا پاسبان ہے (کیونکہ اگر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ حضرت اسامہ والے لشکر کی روانگی کو ملتوی یا منسوخ کر دیتے تو امت مسلمہ میں یہ وسوسہ پیدا ہو سکتا تھا کہ نبی کا حکم بھی ٹالا جاسکتا ہے۔مطلب پرست لوگ بہ نتیجہ نکالتے کہ فرمان رسول پر اگر عمل نہ بھی کیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ حضرت ابو بکر نے اسامہین کا لشکر روک کر نبئی کے حکم پر عمل نہیں کیا چنانچہ کا رسول کو ٹالنے کی ایک وسیع راہ کھل جاتی اور شریعت اسلامی سخ ہونے سے بچ نہ سکتی۔-۴- وقتی طور پر یہ فائدہ ہوا کہ دشمنوں نے یہ اندازہ کیا کہ اس کسمپرسی کی حالت میں اگر مسلمانوں کا اتنا بڑا لشکر شام بھیجا جارہا ہے تو یقینا مدینہ میں بھی ان کی بہت بڑی طاقت موجود ہے۔ان کے دلوں پر رعب طاری ہوگیا اور مسلمانوں کی طاقت کی دھاکہ میڈ گئی اور اس مشکر کی روانگی دشمنان اسلام کے مدینہ پر حملہ کے عزائم میں روک بن گئی۔