حصارِ — Page 6
کر سکتی ہے۔ہوا یوں کہ پیارے آقا ، سردار دو جہاں ، سید ولد آدم حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری علامت کے وقت یہ خبر ملی کہ شام کا بادشاہ مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کے لیے مدینہ پر شکر کشی کی تیاری کر رہا ہے۔چنانچہ آپ نے ایک فوج کی تیاری کا ارشاد فرمایا اور اس کی سپہ سالار می حضرت اسامہ بن زید کے سپرد کی۔ابھی یہ لشکر تیاری ہی کر رہا تھا کہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم خُدا کے حضور حاضر ہو گئے۔پیارے آقا ومطاع کی وفات ہر مسلمان کے لیے قیامت بن گئی اپنے محبوب کی جدائی کے صدمہ سے روحیں گھائل اور جگر چھلنی تھے۔چاروں سمت بے کسی اور کسمپرسی کی پر چھائیاں منڈلا رہی تھیں اور ادھر کئی نومسلم قبائل جنہیں ابھی تربیت کی آپنے مکمل طور نہ پہنچی تھی ، نفاق اور ارتداد کی راہ اختیار کر ر ہے تھے۔دشمنان اسلام، اسلام کو صفحہ ہستی سے نابود کرنے کے لیے اپنی تلواروں کو آب دے رہے تھے۔ان حالات میں اسلام کے بارہ میں دشمنوں کا تصور تھا کہ کا چراغ سحر ہے بجھا چاہتا ہے گو یا عناد، ارتداد اور مخالفت کے طوفان میں اسلام اس جزیرے کی طرح دکھائی دیتا انتھا تو بپھرے ہوئے سمندر میں بے بسی سے اس کی لہروں کو جذب کرتا ہے۔اس خوف کی حالت میں خدا تعالیٰ نے اپنا وعدہ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَا پورا کیا اور حضرت ابو بکر کو خلیفۃ الرسول اور امیرالمومنین کی خلعت عطا کی۔یہ خلیفۃ الرسول ، عزم کی چٹان اور استقلال کی آہنی دیوار بن کر اس کفر وارتداد کے طوفان کے مقابل کھڑا ہو گیا۔بڑے بڑے جلیل القدر اور عظیم المرتبت جری صحابہ ، آپ کو حالات کی نزاکت کے پیش نظر یہ مشورہ دینے لگے کہ حضرت اسامہ والے شکر کی روانگی کو روک دیا جائے کیونکہ مدینہ دشمنوں کے ذریعہ میں ہے۔اور مسلمان انتہائی کمزوری کی حالت میں ہیں کیونکہ فراق رسول کے صدمہ نے ان کی طاقتوں کو سلب کر لیا ہے ے۔اور ہم ان کے خوف کو امن میں بدل دیں گے۔