ہجرت سے وصال تک

by Other Authors

Page 34 of 142

ہجرت سے وصال تک — Page 34

۳۴ ماں۔آمین۔اللھم آمین۔آگے یہ ہوا کہ بظاہر تو نہتے مسلمانوں اور متکبر کافروں کی جنگ جاری تھی مگر اصل جنگ سائبان کے نیچے دعاؤں سے لڑی جارہی تھی۔آپؐ سجدے سے اُٹھے سورہ قمر کی ایک آیت آپ کی زبان پرتھی۔سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَتُونَ الدبر المرام کفار کات کو ضرور پسپا ہو گا اور پیٹھ دکھائے گا۔آپ نے ریت اور کنکہ کی ایک سٹھی اُٹھائی اور کفار کی طرف پھینک دی (سورہ انفال) اور جوش کے ساتھ فرمایا شاھت الوُجُوه دشمنوں کے منہ بگڑ جائیں گئے۔اس کے ساتھ ہی ریت و کنکر کی تیز آندھی آئی جس کا رخ کفار کی طرف تھا۔ایسی مینگڈر مچی کہ تھوڑی دیر میں میدان صاف تھا مسلمانوں نے ستر کا فریکڑ کہ قیدی بنالئے اور ستر روسائے قریش جنگ میں مارے گئے تھے۔قرآن پاک کا وعدہ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكَافِرین کفار کی جڑ کاٹ دی جائے گی پورا ہو گیا۔بچہ۔میرا دل کہ رہا ہے زور سے نعرہ تکبیر اللہ اکبر کہوں۔ماں۔آپ اور بھی جوش سے نعرہ ماریں گے جب سنیں گے کہ مرتے مرتے ابو جیل نے پوچھا کہ میدان کس کے ہا تھ رہا تو اُسے جواب ملا۔خدا اور اس کے رسول کے ہاتھ یہ آخری جملہ متھا جو اُس نے مرنے سے پہلے سُنا۔آپ تین دن تک میدان بدر میں رہے۔اپنے شہداء کو دفن کیا زخمیوں کی مرہم پٹی کی۔