ہجرت سے وصال تک

by Other Authors

Page 35 of 142

ہجرت سے وصال تک — Page 35

۳۵ بچہ۔اُس بچے عمیر کا کیا ہوا جو رو کر ضد کر کے شامل ہوا تھا۔ماں۔کل چودہ شہید ہونے والے مسلمانوں میں عمیر بھی شامل تھا۔اسلام کا کم سن شہید - پدر سے مدینہ روانہ ہوتے وقت آپ نے حضرت زید بن حامہ شہ کو آگے آگے بھیجا تا کہ اہل مدینہ کو خوشخبری سنائیں۔مدینہ میں حضرت زید کے پہنچنے سے پہلے حضرت رقیہ بنت رسول اللہ وفات پا چکی تھیں۔فتح کی خبر نے غم زدہ دلوں کو کچھ ڈھارس دی۔بچہ۔آپ غمگین بھی ہوں گے خوش بھی ہوں گے۔ماں۔آپ تو ہر حال میں اللہ پاک کی رضا میں راضی رہتے تھے۔اب میں آپ کو مسلمانوں کے قیدیوں سے سلوک کے بارے میں بتاتی ہوں۔عرب میں اسلام سے پہلے جنگی قیدیوں کو قتل کر دیتے یا غلام بنا لیتے تھے مگر اسلام کی حسین تعلیم کے مطابق قیدیوں سے بہت اچھا سلوک کیا گیا جو قیدی اسلام قبول کر لیتے آزاد کر دیئے جاتے جو فدیہ ادا کرتے آزاد کر دیئے جاتے۔جو غریب تھے انہیں بطور احسان آزاد کر دیا جاتا۔جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے ان کا فدیہ دس دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھانا مقرر ہوا۔قیدیوں سے سلوک میں دو واقعات سینیئے۔عباس آپ کے حقیقی چچا تھے مسجد نبوی کے ایک ستون کے ساتھ عام قیدیوں کی طرح بندھے ہوئے تھے اُن کے کر اپنے کی آواز سے آپ کو نیند نہیں آ رہی تھی۔انصار کو معلوم ہوا تو عباس کے بندھن ڈھیلے کر دیئے۔جب آپ کو اس بات کا علم ہوا تو عدل وانصاف