ہجرت سے وصال تک — Page 36
قائم کرنے والے آقا نے اپنی تکلیف کا خیال نہ کیا اور فرمایا " بندھن ڈھیلے کرنے ہیں تو سب کے ڈھیلے کرو۔چنانچہ سب کے بندھن ڈھیلے کر دیئے گئے۔دوسرا واقعہ آپ کے داماد ابو العاص کا ہے وہ بھی جنگی قیدی تھے اُن کی آزادی کے لئے فدیہ میں حضرت زینب بنت رسول اللہ نے جو چیزیں بھیجیں اُن میں ایک ہار تھا جو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنی بیٹی کو جہیز میں دیا تھا۔ہار دیکھ کہ آپ کو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ و گئیں اور آنکھوں میں آنسو آگئے آپ نے صحابہ سے فرمایا : اگر عنها بادا تم پسند کرو تو تین ان کا مال سے واپس کر دو یہ صحابہ کرام نے دورامال واپس کر دیا۔بچہ۔پھر ابو العاص تو آزاد نہ ہو سکے ہوں گے۔ماں۔ابو العاص کے لئے دوسرا اندیہ مقرر کیا گیا اور وہ یہ تھا کہ مکہ جاکر نیت رسول اللہ کو مدینہ بھیجوا دیں۔وعدے کے مطابق انہوں نے حضرت زینب کو مدینہ بھیجوانے کا انتظام کیا مگر راستے ہی میں قریش مکہ انہیں واپس بھجوانے پر جھگڑا کرنے لگے حتی کہ ایک بدبخت نے زور سے نیزے کا دار کیا جس سے وہ زخمی ہو گئیں۔اس زخم کے نتیجہ میں ہونے والی کمزوری سے وہ کچھ عرصے بعد وفات پاگئیں پھر ابو العاص بھی مسلمان ہو کہ مدینہ میں آگئے۔بچہ۔آپ کو کتنا صدمہ ہوا ہو گا۔