ہجرت سے وصال تک — Page 113
اُن کے چہر سے یہ رہا۔بچہ۔نکاح مدینہ آکر ہوا تھا۔ماں۔نہیں آپ ابھی خبیر ہی میں خیموں میں مقیم تھے۔یہاں ایک الیسا واقعہ ہوا جس سے آپ کے تحمل کا پتہ چلتا ہے۔ایک یہودی خاتون نے جو مرحب کی بھا بھی تھی۔آپ اور چند صحابہ کی کھانے کی دعوت کی۔آپ نے قبول فرمالی۔اس بدبخت خاتون نے کھانے میں زہر ملا دیا۔آپ نے تو خدا تعالیٰ سے علم پاکہ ایک لقمہ کے بعد ہاتھ روک لیا لیکن حضرت بشیر بن برار نے پیٹ بھر کر کھایا تھا وہ بعد میں فوت ہو گئے۔انحضور صلی اللہ علیہ دستم نے اپنی خاطر اس خاتون کو کوئی منترا نہ دی حالانکہ اُس نے اعتراف جرم کر لیا تھا۔بچہ۔ہمارے پیارے آقا کو اللہ پاک نے بہت بڑا دل دیا تھا۔ماں۔ہمیں بھی پیارے آقا کی طرح غصہ اور انتظام سے بچنا چاہئے اور معاف کرنے کی عادت ڈالنی چاہئے۔اب دیکھئے نا مکہ جانے کی آپ اور صحای من کی کتنی خواہش تھی مگر جب قریش مکہ نے روکا تو نہیں گئے تاکہ جھگڑا نہ ہو۔بچہ۔انہوں نے یہ بھی تو کہا تھا اگلے سال آپ آسکتے ہیں۔ماں۔جی ہاں اگلے سال یعنی ذی قعدہ شہ فروری سہ میں غزوہ خیبر کے بعد واقعہ حدیبیہ میں شریک صحابیہ اور اُن کے علاوہ بھی تقریباً دو ہزار صحابہ کے ساتھ مکہ تشریف لے گئے۔بیت اللہ کے قریب پہنچ کر فرمایا کندھوں کو کھول دو احرام کا کپڑا بغل کے نیچے سے نکال کر گردن کے۔