ہجرت سے وصال تک

by Other Authors

Page 74 of 142

ہجرت سے وصال تک — Page 74

بھی جواب دیا اور پھر یکدم دھاوا بول دیا۔کفار کے پاؤں اکھڑ گئے سب کے سب ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو گئے۔دس کا فر قتل ہوئے اور ایک مسلمان شہید ہوئے۔آپ نے کچھ دن مرسیع میں قیام فرمایا اور پھر واپس مدینہ تشریف لے آئے۔۔آپ نے یہ تو بتایا ہی نہیں کہ اس دفعہ مدینہ میں اپنے بعد کسے امیر مقرر فرمایا۔ماں۔تاریخ کی کتاب ابن ہشام میں لکھا ہے کہ ابو ذر غفاری کو اور دوسری کتاب ابن سعد میں لکھا ہے کہ زید بن حارثہ کو امیر مقر فرمایا۔یہ واقعہ دمبر جنوری ۲ شوال سنہ ہجری میں پیش آیا۔جنگ کے بعد ایک واقعہ پیش آیا جو چھوٹی سی بات سے شروع ہوا اور عین ممکن تھا مسلمان آپس میں ہی ایک دوسرے کو مارنے لگتے مگہ آپ کی معاملہ فہمی سے خطرہ ٹل گیا۔یہ خاص طور پر اس لئے سنا رہی ہوں کہ آپ کو علم ہو کہ آپس کے جھگڑوں سے منافق اور دشمن کس طرح فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ہوا یوں کہ مربیع میں ہی ایک چشمے سے پانی بھرتے وقت دو جاہل اور عامی مسلمانوں میں کچھ جھگڑا ہوا۔ایک نے آواز لگائی اسے انصار بھائیو آکر میری مدد کرو۔دوسرے نے پکارا اسے مہاجرین میری مدد کو آؤ۔دیکھتے ہی دیکھتے تلواریں نکل آئیں قریب تھا کہ قتل وغارت ہو جاتا کہ سمجھدار انصار و مہاجرین نے آپس میں صلح کرا دی۔آپ کو جھگڑے کا علم ہو تو آپ نے ناراضگی کا اظہار فرمایا اور بات ختم ہوگئی۔مگر منافقین کے سردار عبد اللہ بن ابی بن سلول کو علم ہوا