ہجرت سے وصال تک — Page 75
تو اُس نے موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے لوگوں کو خوب بھڑ کا یا کہ تم نے مسلمانوں کو پناہ دی اور اب دیکھو یہ کتنے مضبوط ہو گئے ہیں۔ان کی مدد سے ہاتھ روک لو تو یہ خود ہی چھوڑ چھاڑ کر واپس چلے جائیں گے بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہ دیکھو واپس جا کہ مدینہ کا معزز ترین شخص (خود) مدینہ کے العوذ باللہ) ذلیل ترین کو مدینے سے نکال دے گا۔“ اهنجاری و ته ندی سوره منافقون و این بهتام و ابن سعد) بچہ - افوہ کتنی گندی بات - ماں۔آپ کی طرح دہاں بیٹھے ایک بچے زید بن ارقم کو بھی یہ بات بری لگی اور اُس نے یہ سارا واقعہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کہلا بھیجا سلمان سخت طیش میں آئے مگر آپ نے کسی قسم کی سزا نہ دی حتی کہ خود اس منافق کا مسلمان بیٹا عبد اللہ آپ کے پاس آیا اور کہا" یا رسول اللہ میں نے سُنا ہے کہ آپ میرے باپ کی گستاخی اور فتنہ انگیزی کی وجہ سے اس کے قتل کا حکم دنیا چاہتے ہیں اگر آپ کا یہی فیصلہ ہے تو آپ مجھے حکم فرمائیں میں ابھی اپنے باپ کا سر کاٹ کر آپ کے قدموں میں لا ڈالنا ہوں، آپ نے تسلی دی اور فرمایا۔ہمارا ہر گز یہ ارادہ نہیں ہے بلکہ ہم بہر حال تمہارے والد کے ساتھ نرمی اور احسان کا معاملہ کریں گے۔اللہ اللہ اپنے دشمنوں کا اتنا خیال ! اسی لئے تو بیٹا اپنے باپ سے زیادہ آپ سے محبت کرتا تھا۔ماں۔صرف باپ سے ہی نہیں دنیا کی ہر چیز سے زیادہ صحابہ آپ سے پیار