ہجرت سے وصال تک

by Other Authors

Page 73 of 142

ہجرت سے وصال تک — Page 73

،۳ فوت ہو کہ میرے پاس پہنچے گی۔“ 1۔انجاری و سلم بحواله اصابه حالات زینب بنت جحش ) بچہ۔کس کے ہاتھ سب سے لمبے تھے۔انہوں نے نا پے تو ہوں گے۔ماں۔ناپے تو تھے مگر آپ کا یہ مطلب ہی نہیں تھا۔ہاتھ ملے ہونے کا مطلب تھا سب سے زیادہ صدقہ خیرات کرنے والی۔اب آپ بتائیے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سب سے پہلے فوت ہو کہ کون پہنچا ہو گا۔بچہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا ماں۔بالکل ٹھیک۔آپ ماشاء اللہ خوب سمجھتے ہیں۔اب بات ہو گی۔کفار مکہ کی نئی مخالفتوں کی۔آپ یہ تو جانتے ہیں کہ وہ عرب کے مختلف قبائل کو اکساتے رہتے تھے۔اب انہوں نے اُن قبائل کو بھی اسلام دشمنی پر اُبھارنا شروع کیا جن کے مسلمانوں سے اچھے تعلقات تھے۔چنانچہ بنو خزاعہ کی ایک شاخ بنو مصطلق نے زور شور سے مدینے پر حملے کی تیاری شروع کر دی۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم تو بیداری اور جو کسی سے حالات پر نظر رکھتے تھے جب آپ کو اس تیاری کا علم ہوا تو مسلمانوں کی ایک فوج لے کر روانہ ہوئے۔مکہ اور مدینہ کے درمیان ساحل سمندر کے پاس ایک مقام مریسیع پر پڑاؤ ڈالا۔فوج کی صف بندی فرمائی۔جنگ سے بچنے کے لئے آخری کوشش یہ کی کہ حضرت عمر رض سے فرمایا کہ آپ اعلان کریں کہ اسلام دشمنی سے بانہ آجائیں تو مسلمان واپس لوٹ جائیں گے مگر وہ باز نہ آئے بلکہ تیر اندازی شروع کر دی مسلمانوں نے