ہجرت سے وصال تک — Page 44
۴۴ (۳) حضرت حفصہ کی عمر اس وقت اکیس سال تھی۔وہ لکھنا پڑھنا جانتی تھیں وہ تریسٹھ سال کی عمر میں شکہ ہجری میں فوت ہوئیں۔اب آپ کو ایک خوشی کی خبر سناتی ہوں۔۵ار رمضان سہ کو حضرت فاطمر اور حضرت علی کو اللہ پاک نے چاند سا بیٹا دیا بچے کی شکل بالکل اپنے نانا سے ملتی تھی۔نانا جان نے بچے کا نام حسن رکھا یہ لاڈلا بچہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں کھیلتا رہتا آپ نماز میں ہوتے تو حسن بنی آپ سے لپٹ جاتے۔رکوع میں ہوتے تو آپ کی ٹانگوں میں سے راستہ بنا کر نکل جاتے کئی دفعہ آپؐ فرماتے "خدایا مجھے ان بچوں سے محبت ہے تو بھی ان سے محبت کر اور ان سے محبت کرنے والوں سے محبت کر اچھا اب آپ ایک بات خوب سوچ کہ بتائیں کہ جنگ بدر میں مسلمانوں کی فتح میں کس کس بات نے مدد کی۔بچہ۔سب سے پہلے تو اللہ تعالیٰ نے احسان کیا ، آپ کی دعائیں سنیں۔دوسرے آپ کی چوکسی اور بیداری نے ، آپ پارٹیاں بھیجا کرتے تھے جس سے آپ ہر وقت حالات سے باخبر رہتے اور صحیح وقت پر کارروائی کرتے۔ماں۔بالکل ٹھیک آپ نے بہت اچھا نتیجہ نکالا۔اب جو بات میں آپ کو بتاؤں گی اس سے بھی آپ کی جنگی حکمت عملی اور محتاط طبیعت کا اندازہ ہوگا۔مکہ اور مدینہ میں تین دن کے تیز رفتار سفر کا فاصلہ تھا۔مدینے میں بیٹھے بیٹھے وہاں کے حالات کا اندازہ نہیں ہو سکتا تھا۔آپ نے اپنے چچا حضرت عباس کو مسلمان ہو جانے کے بعد مکہ ہی میں ٹھہرنے کی تاکید کہ