ہجرت سے وصال تک — Page 43
۴۳ انہوں نے ایسی حکمت عملی سے کام لیا کہ وہ بھاری ساز و سامان چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے مزے کی بات یہ کہ اُن میں ابو سفیان اور صفوان بن امیہ جیسے بہادری کے دعوے کرنے والے رئیس بھی تھے۔اب سنو عام رہن سہن کا واقعہ ، حضرت عمر رض کی ایک بیٹی تھیں حفصہ ابھی نہیں سال کی تحقیں کہ اُن کے شوہر کا انتقال ہو گیا۔کچھ عرصے کے بعد حضرت عمر رض نے سوچا کہ حفظہ کی دوسری شادی کر دینی چاہئیے۔حضرت عثمان کے پاس گئے اور کہا کہ میری بیٹی بیوہ ہو گئی ہے آپ پسند کریں تو اُس سے شادی کر لیں مگر حضرت عثمان خاموش رہے۔پھر ہیں بات حضرت عمر رض نے حضرت ابو بکر رض سے کہی حضرت ابو بکر رض بھی خاموش رہے۔حضرت عمریضہ کو بڑا ملال ہوا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور سارا ما حجر اسنا دیا۔آپ نے فرمایا عمرا کچھ فکر نہ کر خدا کو منظور ہوا تو حفصہ کو عثمان سے بہتر شوہر اور عثمان کو حفصہ سے بہتر بیوی ملے د زرقانی حالات حفصه) گی۔اب آپ سوچیں کہ عثمان و ابو بکر رض سے بہتر کون تھا۔بچہ۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ماں۔جی ہاں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی حضرت حفصہ رضو سے ہوئی اور حضرت عثمان نے کو حضرت ام کلثوم جیسی بیوی مل گئیں۔آپ سے حضرت حفصہ کی شادی شعبان کہ ہجری میں ہوئی اتر جنوری فروری لے صحیح بخاری جلد ۲ ص ۲۹