حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 164 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 164

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 164 میں لایا جاتا ہے وہ طاقتور اور مفید ہوتے چلے جاتے ہیں اور جن قومی کو استعمال میں نہ لایا جائے وہ کمزور تر اور برکار ہوتے چلے جاتے ہیں۔اسی لیے از منہ گزشتہ میں عمومی طور پر بنی نوع آج کے دور کے انسان سے زیادہ مضبوط اور صحت مند تھے۔اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ وہ لوگ اپنے قویٰ کا استعمال زیادہ کرتے تھے اور اس دور کے انسان اپنے قومی کا استعمال کم سے کم کرتے ہیں اور مشینوں پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔اسی طرح بنی نوع انسان عمومی طور پر، موجودہ دور کے ترقی یافتہ طبقے میں پلنے بڑھنے والے انسان سے زیادہ اچھے حافظہ کے مالک تھے۔اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ازمنہ گزشتہ سے حوالے تلاش کرنے کی ضرورت نہیں، کسی ایسے بچے سے جو روایتی انداز میں حساب کتاب کا عادی ہو کوئی حسابی جمع تفریق کروا کر دیکھیں تو وہ اس بچے کی نسبت بہت جلد کرلے گا جو کیلکولیٹر اور کمپیوٹر وغیرہ کی مدد حاصل کرنے کا عادی ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ایک بچہ روایتی طور پر حسابی سوالات حل کرنے کے لیے ذہن سے کام لیتا ہے اور اس مشق سے اس کا ذہن حساب کتاب میں تیز ہو جاتا ہے لیکن ایک دوسرا بچہ جو کسی ایسے معاشرے کا فرد ہے جہاں کیلکو لیٹر اور کمپیوٹر کا رواج ہے تو وہ بجائے ذہن استعمال کرنے کے فوراً کسی حسابی آلے کی مدد سے سوال حل کرتا ہے کیلکولیٹر سے حل کرنے کی رفتار عام رفتار کی نسبت تیز ہوتی ہے مگر اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ذہن کام کے اتنا قابل نہیں رہتا جتنا کہ اس بچے کا جو کیلکولیٹر یا کمپیوٹر کی بجائے اپنا ذہن استعمال کرتا ہے۔اسی طرح عمومی طور پر مزدور پیشہ افراد ظاہری طور پر ان افراد سے زیادہ مضبوط اور صحت مند ہوتے ہیں جو دفتری کام کرتے ہیں۔” Edward Gibbon حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے پناہ دماغی اور ذہنی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "His (Muhammad's) memory was capacious and