حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 165
165 حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات retentive, his wit easy and social, his imagination sublime, his judgment clear, rapid and decisive۔He possessed the courage of both thought and action, and۔۔۔the first idea which he entertained of his divine mission bears the stamp of an original and superior genius۔" (Edward Gibbon: The History of the Decline and Fall of the Roman Empire۔John Murray, Albemarle St۔London 1855, vol۔6, p۔335۔) ترجمہ: آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا فلسفہ آسان اور عام فہم ، آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا تصور اعلیٰ و اکمل، آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا فیصلہ بالکل صاف اور واضح، تیز اور درست ، آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو قول اور فعل کی جرات یکساں عطا کی گئی تھی اور اپنے الوہی مشن کے بارہ میں پہلا نظریہ جو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے قائم کیا وہ ایک حقیقی اور بلند تر سوچ کی حامل ہستی کی طرف سے ہونے کا ثبوت اپنے اندر رکھتا تھا۔پھر ابن وراق کے اس اعتراض کی دھجیاں بھی نہیں ملتیں جب ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد خدا تعالیٰ نے جن خالفاء راشدین کے ذریعہ تمکین دین کی وہ سب بھی حافظ قرآن تھے۔اگر حفاظت قرآن کے حوالہ سے ہی دیکھا جائے تو انہوں نے اپنے آقا و مطاع پر نازل ہونے والے کلام کی حفاظت کے لیے اپنے آقا کی پیروی میں ایسے ایسے غیر معمولی اقدامات کیے کہ ابن وراق جیسے کتنے مخالفین ہیں جو صدیوں کی کوشش کرنے کے بعد بھی قرآن کریم کی حفاظت کے میدان میں اپنے تمام تر بُرے ارادوں کے ساتھ نا کام ونامراد ہوتے چلے جارہے ہیں۔انہی خلفا کے دور میں متبعین اسلام نے حیرت انگیز طور پر معلوم دنیا کا بڑا حصہ انتہائی کم وقت