حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 163
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 163 حافظہ کی ایک بڑی وجہ یہ دکھائی دیتی ہے کہ اس زمانہ میں ان میں تحریر کا رواج نہ تھا جس کی وجہ سے عربوں کا زیادہ تر انحصار حافظہ پر ہی تھا اور حفظ کرنے کی ان کو بہت زیادہ مشق تھی۔اس دور میں عربوں کو ہزاروں کی تعداد میں نسب نامے اور اشعار اور ادب پارے یاد ہوتے تھے۔پس ابن دُراق برائے اعتراض ایک ایسی بات کر رہا ہے جو قوانین قدرت کے بھی خلاف ہے اور صدیوں کے جانے مانے حقائق کو بھی جھٹلا رہی ہے۔وہ قوم جسے ہزاروں ہزار شعر یا د ہوتے ، جونسب ناموں کو از بر رکھتی ، جسے اپنی صدیوں کی تاریخ حفظ ہوتی اور کیا قرآن کریم جیسی با ربط ، منظم، اور آسانی سے یاد ہو جانے والی کتاب سے اس کی ذہنی صلاحیتوں پر برا اور منفی اثر پڑنا تھا؟ قوت حفظ کی زیادہ مشق سے ہی تو ان کا حافظہ غیر معمولی ہوا تھا اور قرآن کریم جیسے مرتب کلام کے حفظ سے تو بہت صحت مند مشق ہوتی ہے اور حافظہ کی صلاحیت بہت بڑھ جاتی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: تمام قوای انسانیہ کا قیام اور بقا محنت اور ورزش پر ہی موقوف ہے۔اگر انسان ہمیشہ آنکھ بند ر کھے اور کبھی اس سے دیکھنے کا کام نہ لے( تو جیسا کہ تجارب طبیہ سے ثابت ہو گیا ہے ) تھوڑے ہی دنوں بعد اندھا ہو جائے گا اور اگر کان بند رکھے تو بہرہ ہو جائے گا اور اگر ہاتھ پاؤں حرکت سے بند رکھے تو آخر یہ نتیجہ ہو گا کہ ان میں نہ حس باقی رہے گی اور نہ حرکت۔اسی طرح اگر قوت حافظہ سے کبھی کام نہ لے تو حافظہ میں فتور پڑے گا اور اگر قوت متشکرہ کو بے کار چھوڑ دے تو وہ بھی کالعدم ہو جائے گی۔سو یہ اس کا فضل و کرم ہے کہ اس نے بندوں کو اس طریقہ پر چلانا چاہا جس پر ان کی قوت نظریہ کا کمال موقوف ہے۔“ براهین احمدیه روحانی خزائن جلد اول صفحه : 507 تا (509) پس انسانی قومی کو تو اللہ تعالیٰ نے اس طرح تخلیق کیا ہے کہ جن قوی کو زیادہ استعمال