حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 151 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 151

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 151 کی سعادت حاصل ہوئی۔چونکہ اس زمانہ میں کاغذ پر لکھنے کا رواج عام نہ تھا نہ ہی کا غذ عام دسترس میں تھا، اس لیے مختلف چیزوں مثلاً لکڑی، چمڑا، پتھر، کھجور کی چھال، ہڈیوں وغیرہ پر بھی قرآن کریم کا مسودہ لکھا گیا۔یوں سارا قرآن کریم تحریری شکل میں محفوظ ہو گیا۔تقریری یعنی حفظ کے ذریعہ حفاظت: عربوں کو خدا تعالیٰ نے غیر معمولی حافظہ عطا فر مایا تھا، اس کا مقصد بھی دراصل حفاظت قرآن ہی ย دکھائی دیتا ہے۔چنانچہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ساتھ کے ساتھ قرآنی وحی صحابہ کرام کو سناتے اور وہ اسے ذوق شوق کے ساتھ یاد کر لیتے۔صحابہ تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اشاروں پر اپنی جانیں نچھاور کر دیتے تھے، آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس طرف ترغیب دلانے پر انہوں نے قرآنی وحی کے حفظ کرنے میں وہ نمونہ دکھایا جو اپنی مثال آپ ہے۔صحابہ نمازوں میں لمبی لمبی تلاوت کرتے۔بعض تو ایک رات میں قرآن کریم کا ایک دور مکمل کر لیتے تھے۔مثلاً حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ۔چنانچہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روکا۔صرف کبار صحابہ ہی نہیں بلکہ عام مسلمان بھی دلی شوق سے قرآن کریم یا د کرتے۔پس قرآن کریم کی حفاظت نہایت شاندار طریق پر ہوئی اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی حفاظ کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی تھی۔قرآن کریم ایک جلد میں : حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن مجید کا جو حصہ نازل ہوتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے بڑے اہتمام کے ساتھ لکھواتے جاتے تھے۔اس طرح نزول قرآن کے ساتھ ہی مصحف تیار ہوتا جارہا تھا۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اسے اپنے گھروں میں رکھتے اور پڑھتے رہتے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خیال ہوا کہ صحابہ مصحف سے تلاوت ناظرہ کرنے لگ گئے ہیں مبادا ان کی توجہ قرآن کریم حفظ کرنے میں کم ہو جائے۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو متنبہ فرمایا اور انہیں قرآن کریم حفظ کرنے کی طرف توجہ دلائی۔حضرت ابوامامہ سے مروی ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: