حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 150
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 150 قرآن کریم سے پہلے کوئی بھی الہامی کتاب اپنی اصلی صورت میں قائم نہ رہی تھی بلکہ ان میں بہت تصرف اور تحریفات ہو چکی تھیں لیکن قرآن کریم وہ واحد الہامی کتاب ہے جو بعینہ اسی طرح محفوظ ہے جس طرح وہ نازل ہوئی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ نبوت کے ساتھ ہی قرآن کا نزول شروع ہوا اور برابر 23 سال وفات تک یہ سلسلہ جاری رہا۔شروع میں وحی تھوڑی تھوڑی کر کے نازل ہوئی پھر آہستہ آہستہ بڑھتی گئی اور آخری عمر میں پے در پے نازل ہونے لگی۔اس میں بھی حکمت تھی کیونکہ نئے نئے مسائل کے بارے میں وحی الہی نازل ہو رہی تھی۔ایسے مسائل جن کا سمجھنا مشکل تھا ان کا حل وحی الہی میں بتایا جا رہا تھا اس لیے قرآن کریم آہستہ آہستہ اور تھوڑا تھوڑا نازل کیا جا رہا تھا تا کہ لوگ اچھی طرح سمجھ کر اس پر عمل کر سکیں۔دوسرے قرآن کریم کی حفاظت بھی پیش نظر تھی۔شروع میں صحابہ کم تھے جیسے جیسے صحابہ کی تعداد بڑھتی گئی ویسے ویسے قرآنی وحی کی رفتار بھی بڑھتی گئی۔تا کہ آسانی کے ساتھ اس کو حرف بہ حرف یاد رکھا جاسکے۔قرآن کریم کی تحریری اور زبانی دونوں طرح سے زبر دست حفاظت کی جاتی رہی اور خدا کا وعدہ بڑی شان سے پورا ہوا کہ اس یعنی قرآن کریم کا جمع کرنا اور اس کی حفاظت کرنا ہمارے ذمہ ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نزول قرآن کریم کے آغاز ہی میں قرآن کریم کی حفاظت کی فکر دامن گیر ہوگئی تھی اسی لیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی جلدی اسے یاد کرنے اور یادرکھنے کی کوشش کرتے تھے جس پر خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ گھبراؤ نہیں اس کی حفاظت کی ذمہ داری ہم نے اپنے اوپر رکھی ہے۔جس عظیم الشان اور قطعی طریق پر قرآن کریم کی حفاظت کی گئی وہ اپنی مثال آپ ہے۔تحریری حفاظت : آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ساتھ کے ساتھ اسے بعض کاتبین وحی صحابہ کو کھوا دیتے اور پھر سن لیتے کہ آیا انہوں نے وہی کچھ لکھا ہے جو لکھوایا گیا ہے یا کوئی غلطی کی ہے۔چالیس صحابہ کے اسمائے مبارک ہمارے سامنے آتے ہیں جنہیں مختلف اوقات میں کاتب وحی ہونے