حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 149 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 149

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 149 رہے تھے۔عشق قرآن میں ڈوبے ہوئے یہ لوگ اسی محبت و عشق قرآن کو بنیاد بناتے ہوئے اس کے ایک ایک لفظ کو اپنی نجات کا سامان اور الہی امانت سمجھتے ہوئے اپنے جزو بدن بناتے تھے اور اس کو آگے منتقل کرنا اپنی اولین ذمہ داری گردانتے تھے۔حفظ کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کا تحریری صورت میں من وعن ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ دانسته یا غیر دانستہ طور پر کوئی غلطی یا تحریف اس میں راہ نہیں پاسکی۔جو قوم کبھی کبھی اور کہیں کہیں بکھری ہوئی روایات کے بارے میں اس قدر محتاط تھی کہ بلا تصدیق نہ بنتی نہ مانتی تھی تو کیسے ممکن ہے کہ بار بار پڑھی جانے والی وحی الہی یعنی قرآن کریم کی تحریر میں کوئی غلطی راہ پا جاتی اور وہ اس کو برداشت کر لیتے یا خود اس کا موجب بن جاتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام ایک دوسرے کے حفظ کی نگرانی بھی کرتے تھے۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے لے کر آج تک ایک ایسے تواتر کے ساتھ حفاظ آئندہ نسل کو قرآن کریم حفظ کراتے چلے آئے ہیں جو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے شروع ہوتا ہے اور پھر قرآن کریم کی تحریر سے اپنے حفظ کو مستند بناتے چلے آئے ہیں۔چنانچہ اس تواتر کے باقاعدہ اہتمام کا ذکر یوں ملتا ہے: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رضى الله عنه قَالَ قَالَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم اقْرَأْ عَلَيَّ الْقُرْآنَ قُلْتُ اقْرَأْ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ قَالَ إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي (بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب من احب ان يسمع القرآن من غيره) ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مجھے قرآن کریم سناؤ۔میں نے ( حیران ہوکر ) عرض کیا کہ میں آپ کو قرآن سناؤں! حالانکہ قرآن کریم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا گیا ہے۔اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوسروں سے قرآن کریم سننا مجھے اچھا لگتا ہے۔