حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 148 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 148

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 148 احادیث مختلف مواقع پر گھروں میں، مجالس میں سفر وغیرہ پر ایک دوسرے کو سُنتے سناتے اور اس طرح سینہ بہ سینہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہوتے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے سوڈیڑھ سوسال بعد تحقیق کر کے تحریری صورت میں جمع کر لئے گئے۔جبکہ قرآن کریم نہ صرف ساتھ ساتھ تحریر میں محفوظ کیا جاتا رہا بلکہ اس کے حفظ کا با قاعدہ اہتمام کیا جاتا اور حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے سو ڈیڑھ سوسال کے بعد جب احادیث اکٹھی کی گئیں تو اس خط کے بارہ میں روایات پر تحقیق کر کے راویوں کے سینوں میں محفوظ اس خط کے الفاظ کتب حدیث میں درج کر لیے گئے۔قریباً ایک سوسال قبل حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لکھوایا ہوا اصل خط دریافت ہو چکا ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ دونوں خط یعنی دریافت شدہ اور کتب حدیث میں بزبان رواۃ محفوظ خط حیرت انگیز طور پر ایک دوسرے کے عین مطابق ہیں۔“ ایک خط کا سینہ بہ سینہ آگے منتقل ہونے والی روایات میں ذکر ہونا اور پھر سو، دوسو سال کے بعد ان روایات کا تحریری شکل میں آنا اور خط کی اصل تحریر کا دریافت ہونا اور دونوں کے الفاظ تک میں مطابقت کا پایا جانا، یہ ثابت کرتا ہے کہ عربوں کا حافظہ کتنا مثالی اور غیر معمولی تھا اور یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ یہ قوم کس درجہ امانت دار تھی کہ جس نے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ لفاظ جو وحی الہی بھی نہیں تھے اس حفاظت کے ساتھ یادر کھے۔تو سوچیے کہ اس قوم میں وحی الہی کی حفاظت کا درجہ کیا ہوگا ؟ یقینا اپنی جان سے بھی زیادہ۔عربوں کے غیر معمولی حافظہ کا تمام محققین نے بڑے واضح انداز میں ذکر کیا ہے۔عربوں کا نسب نامے یا درکھنا، ایک ایک شخص کو ہزاروں ہزار شعر یاد ہونا، شعر و سخن کی مجالس میں شعر سنانا سننا اور یاد رکھنا اعلیٰ حافظہ کے اعتبار سے بہت معروف پہلو ہیں۔پس اس شان کا حافظہ رکھنے والے اس درجہ امانت دار لوگ عام نسب ناموں اور شعر و شاعری سے کہیں زیادہ محبت اور فدائیت کے ساتھ قرآن کریم حفظ کر