حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 53
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 53 زیادہ ہو، وہی اس اہل ہے کہ امیر اور امام بن سکے۔چنانچہ حضرت ابن مسعودرضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ۔(صحيح مسلم، کتاب المساجد ، باب من أحق بالإمامة) ترجمہ: جماعت کی امامت ایسا شخص کرائے جس کے پاس قرآن کریم کا سب سے زیادہ علم ہو۔اس ضمن میں ایک واقعہ ملتا ہے جس سے قرآن کریم ظاہری طور پر زیادہ یاد کرنے والے کی فضیلت کا بھی پتہ چلتا ہے کہ ایک چھوٹے بچے کو قرآن کریم زیادہ حفظ ہونے کی وجہ سے امام بنادیا گیا۔حضرت عمر بن سلمہؓ فرماتے ہیں کہ ہم مدینہ کے راستے میں رہتے تھے جو لوگ وہاں سے آتے وہ بتاتے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے اور یہ آیات نازل ہوئی ہیں۔چنانچہ میں وہ آیات یاد کر لیتا اور مسلمان ہونے سے پہلے ہی مجھے بہت سارا قرآن یاد ہو گیا۔جب مکہ فتح ہوا تو ہم سب مسلمان ہو گئے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں احکام دین سکھائے ،نماز سکھائی، جماعت کا طریقہ سمجھایا اور فرمایا تم میں سے جسے زیادہ قرآن یاد ہو، وہ امامت کے لیے افضل ہے۔چنانچہ میری قوم نے تلاش شروع کی تو مجھ سے زیادہ حافظ قرآن کوئی نہ نکلا اور مجھے ہی امام بنایا گیا۔میں نماز پڑھاتا اور منبر پر کھڑا ہو کر خطبہ دیتا۔(بخاری، کتاب المغازی، باب 55، روایت نمبر 4302) حفظ نامکمل رہنے پر فرشتہ قبر میں حفظ مکمل کروائے گا: بعض ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں کہ بچپن میں جن کے والدین ان کو قرآن کریم حفظ نہیں کروا سکتے لیکن بڑے ہو کر وہ اپنی مدد آپ کے تحت قرآن کریم حفظ کرنے کی کوشش کرتے ہیں قرآن کریم کے ایسے عشاق کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت بڑی خوش خبری عطا فرمائی کہ ان کو مایوس نہیں ہونا چاہئے کیونکہ