حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات

by Other Authors

Page 52 of 222

حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 52

حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 52 نحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ایک شخص نے ایک عورت سے شادی کی درخواست کی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ مہر میں دینے کے لئے تیرے پاس کچھ ہے؟ چاہے لوہے کی ایک انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو۔وہ اپنے گھر گیا تا کہ دیکھ سکے کہ اس کے پاس کچھ ہے بھی یا نہیں۔واپس آ کر اس نے عرض کیا کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے۔صرف ایک تہ بند ہے جو میں نے اس وقت پہن رکھا ہے۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔کچھ دیر انتظار کے بعد وہ شخص مایوس ہو کر واپس جانے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جاتے ہوئے دیکھ کر واپس بلا یا اور فرمایا: مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ؟ قَالَ مَعِي سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا عَدَّهَا قَالَ أَتَقْرَؤُهُنَّ عَنْ ظَهْرٍ قَلْبِكَ؟ قَالَ نَعَمُ قَالَ اذْهَبُ فَقَدْ مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ۔(بخاری، کتاب فضائل القرآن باب القراءة عن ظهر القلب) ترجمہ: کیا تمہیں قرآن کریم کا کچھ حصہ زبانی یاد ہے؟ اس شخص نے عرض کیا کہ فلاں فلاں سورتیں مجھے زبانی یاد ہیں اور چند سورتوں کے نام گنوائے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا تم یہ سورتیں زبانی تلاوت کر سکتے ہو؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں۔اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔میں اس قرآن کے عوض جو تمہیں یاد ہے اس عورت کو تمہارے نکاح میں دیتا ہوں۔“ حافظ قرآن قوم کا امام: دنیا میں اس کو قابل عزت و احترام سمجھا اور گنا جاتا ہے جو عمر میں بڑا ہو، یا جس کے پاس پیسہ اور جائیدادزیادہ ہو یا جس کے پاس طاقت اور جتھہ بڑا ہو، لیکن اسلام کے بتائے اصول وضوابط میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی اصول متعارف کروایا ہے کہ جس کو قرآن کریم زیادہ یاد ہو اور قرآن کا علم سب سے