حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 54
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 54 اللہ تعالیٰ ان کی اس مبارک سعی کا بہت بڑا قدر دان ہے۔چنانچہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ ثُمَّ مَاتَ قَبْلَ أَنْ يَسْتَظْهِرَهُ أَتَاهُ مَلَكٌ فَعَلَّمَهُ فِي قَبْرِهِ وَيَلْقَى اللَّهَ تَعَالَى وَقَدِ اسْتَظْهَرَهُ (کنز العمال - جلد 1 - صفحه 547، كتاب الاذكار من قسم الاقوال، باب السابع في تلاوة القرآن وفضائله الفصل الاول في فضائل تلاوة القرآن | ترجمہ: جس نے قرآن کریم پڑھا اور حفظ کرنے سے پہلے اس کی وفات ہوگئی تو اس کی قبر میں اس کے پاس ایک فرشتہ آئے گا اور قبر میں ہی اس کو قرآن کریم حفظ کرا دے گا۔حتی کہ وہ شخص اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملاقات کرے گا کہ قرآن کریم اس کو مکمل طور پر حفظ ہو چکا ہوگا۔پچاس آیات پڑھنے والا حفاظ قرآن میں شامل قرآن کریم کی محبت اور عشق دلوں میں ڈالنے کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو مختلف طریق پر ترغیب دلائی ہے۔چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایک رات میں قرآن کریم کی پچاس آیات تلاوت کیں اس کا شمار قرآن کریم کے حفاظ میں ہوگا۔روز قیامت مؤمنین حافظ بن جائیں گے: (سنن الدارمی کتاب فضائل القرآن | قرآن کریم سے محبت کرنے والے ایسے مؤمنین جنہیں اپنی زندگی میں کسی وجہ سے قرآن کریم حفظ کرنے کی توفیق نہیں مل سکے گی لیکن ان کے دل اس بات پر غم زدہ بھی ہوں گے کہ کاش ان کو بھی