حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 127
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 127 ایسے بن جاؤ کہ قرآن کریم تمہاری شفاعت کرے نہ کہ تمہارے خلاف شکایت۔پس یا درکھو کہ قرآن کریم جس کی شفاعت کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس کے خلاف شکایت کرے گا وہ جہنم میں داخل ہوگا۔تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ قرآن کریم ہدایت کا سر چشمہ اور علم کی زینت اور زیور کی حیثیت رکھتا ہے۔یہ زمانہ خدائے رحمان کی طرف سے قرآن کریم کے لیے مختص ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم کے ذریعہ اندھوں کو بینائی عطا فرماتا ، سماعت سے محروم کانوں کو سننے کے قابل بناتا اور دلوں سے پردے اٹھا دیتا ہے۔اچھی طرح جان لو کہ جب کوئی بندہ رات کو اٹھتا ہے، مسواک اور وضو کر کے اللہ کے حضور کھڑا ہو کر اللہ اکبر کہتا اور قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہے تو فرشتہ اس کے منہ پر اپنا منہ رکھ کر کہتا ہے کہ تلاوت کرو، تلاوت کرو تو اچھا ہے اور اس میں تیرے لیے خیر و برکت ہے اور اگر مسواک نہیں کرتا اور صرف وضو کرتا ہے تو فرشتہ اس کے منہ پر منہ نہیں رکھتا لیکن اس کی حفاظت کرتا ہے۔اچھی طرح جان لو کہ نماز میں قرآن کریم کی تلاوت کرنا ایک مخفی خزانہ ہے اور پس انداز کی ہوئی ایک خیر اور بھلائی ہے سو جہاں تک ممکن ہو بھلائی اور خیر اپنے لیے جمع کر لو۔یاد رکھو کہ نماز ایک نور ہے اور زکوۃ دلیل ہے اور صبر ضیا ہے اور روزہ ڈھال ہے اور قرآن کریم تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے سوتم قرآن کی تعظیم کرو اور اس کی اہانت نہ کرو اس لیے کہ جو اس کو عزت دے گا اللہ تعالیٰ اس کو عزت دے گا اور جو اس کی اہانت کرے گا اللہ اس کی اہانت کرے گا۔خوب یا درکھو جس نے قرآن کریم کی تلاوت کی ، اسے حفظ کیا اور اس پر عمل کیا اور جو کچھ اس میں ہے اس کی اتباع کی تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے گا۔اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اس کو دنیا میں ہی نواز دے ورنہ آخرت میں تو اس کے لیے خیر کا ذخیرہ ہے ہی۔یادرکھو! جو کچھ اللہ کے پاس ہے بہتر ہے اور ایمان لانے اور تو کل کرنے والوں کے لیے دائمی برکات کا حامل ہے۔