حفظِ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات — Page 126
حفظ قرآن کی فضیلت، اہمیت اور برکات 126 وَمُهِينٌ مَنْ أَهَانَهُ، وَاعْلَمُوْا أَنَّهُ مَنْ تَلاهُ وَحَفِظَهُ وَعَمِلَ بِهِ وَاتَّبَعَ مَا فِيْهِ كَانَتْ لَهُ عِنْدَ اللهِ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ إِنْ شَاءَ عَجَّلَهَا لَهُ فِي دُنْيَاهُ، وَإِلَّا كَانَتْ لَهُ ذُخْرًا فِي الْآخِرَةِ، وَاعْلَمُوْا أَنَّ مَا عِنْدَ اللهِ خَيْرٌ وَأَبْقَى لِلَّذِيْنَ آمَنُوْا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ (كنز العمال، كتاب الأذكار من قسم الأفعال، باب فی القرآن، فصل فی فضائل القرآن، جزء 2 صفحه (282) ترجمہ:۔ابو کنانہ عدوی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لشکر (فوجوں) کے سپہ سالاروں کو خط لکھا کہ جتنے لوگوں نے قرآن کریم حفظ کر لیا ہے ان کے نام لکھ کر مجھے بھجوا دو تا کہ ان کے لیے خصوصی وظائف جاری کیے جائیں اور لوگوں کو قرآن کریم کی تعلیم دینے کے لیے ان کو مختلف علاقوں میں بھجوایا جاسکے۔حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے جواب میں لکھا کہ میرے پاس تین سو سے زائد حافظ قرآن موجود ہیں۔اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں درج ذیل مکتوب روانہ فرمایا: بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ کے بندے عمر (رضی اللہ عنہ) کی طرف سے عبداللہ بن قیس اور ان کے حافظ قرآن ساتھیوں کے لیے: السلام علیکم ! اما بعد ! اللہ کرے کہ قرآن کریم کو حفظ کرنا آپ سب کے لیے باعث برکت ،ثواب، عزت و شرف اور بزرگی کا موجب ہو۔آپ سب کا فرض ہے کہ قرآن کریم کی پیروی کریں نہ کہ قرآن کریم کو اپنا متبع بنانے کی کوشش کریں کیونکہ جس شخص نے قرآن کریم کو اپنا متبع بنانے کی کوشش کی تو قرآن کریم اس کو اوندھا کر کے منہ کے بل گرا دے گا حتی کہ اس شخص کو جہنم میں پھینک دے گا۔اس کے برعکس جس شخص نے قرآن کی پیروی کی تو قرآن کریم اس کو جنت الفردوس کے باغات میں پہنچا دے گا۔ہو سکے تو